بیت بازی — Page 506
506 ۷۴ ۷۵ 22 ZA ۷۹ ۸۰ ۸۲ ۸۳ رکس کے نازوں نے بنایا ہے مجھے اپنا شکار کس کے غمزہ نے کیا ہے مثل باراں اشکبار کہتے ہیں بہر خرید یوسف فرخنده فال ایک بڑھیا آئی تھی باحالتِ زار ونزار کور ہیں آنکھیں جنھوں نے شکل وہ دیکھی نہیں گوش کر ہیں؛ جو نہیں سنتے کبھی گفتار یار کیوں چل دیا ہے شمع کو پروانہ چھوڑ کر جاتا ہے کوئی یوں کبھی کاشانہ چھوڑ کر کثرت آنام سے ہے تم ہوئی میری گھر اب یہی اس کا مداوا ہے؛ کہ کریں درگذر کھول کر قرآن پڑھو اس کے کلام پاک کو دل کے آئینہ پر تم اک کھینچ لو تصویر یار کبر کی عادت بھلاؤ؛ انکساری سیکھ لو جہل کی عادت کو چھوڑو؛ علم کرلو اختیار کہتے ہیں پیاروں کو جو کچھ ہو؛ وہ آتا ہے پسند اس لیے جو کوئی اُس کا ہو؛ کرو تم اُس سے پیار کیوں غلامی کروں شیطاں کی؛ خُدا کا ہوکر اپنے ہاتھوں سے بُرا کیوں بنوں؛ اچھا ہوکر کہاں ہیں ماتی و بہزاد؛ دیکھیں فنِ احمد کو دکھایا کیسی خوبی سے مثیل مصطفے ہوکر ۸۴ کر رحم اے ۸۵ ۸۶ رحیم! میرے حال زار پر پر زخم جگر په دَردِ دِل بے قرار کیا آپ دریا مری بے تابیاں کافی نہیں تو جگر کو چاک کر کے اپنے؛ یوں تڑپا نہ کر کہتے رہے ہم اُن سے دِلِ زار کی حالت سنتے رہے وہ غیر کا افسانہ سمجھ کر == !!! گ' سے 'ر' اگ سے شروع ہو کر ار پر ختم ہونے والے اشعار ) تعداد گل اشعار در ثمين در عدن کلام محمود 18 15 1 2