بیت بازی

by Other Authors

Page 338 of 871

بیت بازی — Page 338

338 ۴۳ ۴۴ ابر رحمت ہو کے جب سارے جہاں پر چھا چکے کہہ دیا شیطاں نے ہنس کر زور تھا تلوار کا ان کے آتے ہی میرے غنچۂ دل کا کھیلنا اس خزاں کا میری صد فصلِ بہاراں ہونا ۴۵ اور اس سے بڑھ کے حال تو اُمت کا ہو گا کیا وعدہ جو تھا حبیب سے؛ وہ کیجئے وفا آگرا جو آگ میں تیری؛ وہ بھن کر رہ گیا جانتے تھے جو نہ رونا؛ ان کو گریاں کردیا اے محبت! کیا اثر تو نے نمایاں کر دیا زخم و مرہم کو رہِ جاناں میں یکساں کر دیا کلام طاهر ۴۶ ۴۷ ۴۸ ۴۹ اک میں بھی تو ہوں یارب! صیدہ دام اس کا دل گا تا ہے گن اس کے؛ کب جیتے ہیں نام اس کا آنکھوں کو بھی دکھلا دے؛ آنا لپ بام اس کا کانوں میں بھی رس گھولے؛ ہر گام خرام اس کا ۵۰ اے میرے والے مصطفیٰ! اے سیدالوری اے کاش ہمیں سمجھتے نہ ظالم؛ جدا جدا ا اس کا ظہور، ظہور خدا کا دکھلایا یوں نور خدا کا بتکدہ ہائے لات ومنات پر طاری کر دیا عالم ہو کا الگ نہیں کوئی ذات میری، تمہی تو ہو کائنات میری تمہاری یادوں سے ہی معنون ہے زیست کا انصرام کہنا ۵۲ ۵۳ خدا نے باندھا ہے جو تعلق؛ اے میرے سانسوں میں بسنے والو؛ بھلا جُدا کب ہوئے تھے مجھ سے گا رہے قائم مدام کہنا ۵۴ اُلٹی پڑ گئیں سب تدبیریں؛ کچھ نہ دغا نے کام کیا دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا ۵۵ آخر طاہر سچا نکلا؛ آخر ملاں نکلا جھوٹا ۵۶ ۵۷ ۵۸ ۵۹ ۶۰ جا الحق وزهق الباطل ان الباطل كـــــــان زهــــو قـــــــا جا الحق وزهق الباطل اپنا منہ ہی کر لیا گندا؛ پاگل نے جب چاند پر تھوکا ان الباطل كــــــــان زهــــــوقــــــا اوٹ سے تیرگی پاس کی جب وقتِ سحر کرن امید کی پھوٹے گی؟ چلا جائے گا احمدیوں نے جب بھی درود پڑھا ہوگا دل میں اور کسی کا نام لیا ہوگا اپنے دیس میں اپنی بستی میں ؛ اک اپنا بھی تو گھر تھا جیسی سُندر تھی وہ بستی ؛ ویسا وہ گھر بھی سُندر تھا اُس کی دھرتی تھی آکاشی ؛ اس کی پر جاتھی پر کاشی جس کی صدیاں تھیں متلاشی ، گلی گلی کا وہ منظر تھا