بیت بازی

by Other Authors

Page 303 of 871

بیت بازی — Page 303

303 ۱۴۲ ۱۴۳ ۱۴۴ ۱۴۶ ہاں یاد رہے خالد! یہ شان ہے مومن کی مایوس نہیں ہوتا؟ اللہ کی رحمت سے ہو نذر جاں قبول؛ تو مشہد قریب ہے بڑھتے چلو! کہ منزل مقصد قریب ہے نہ کبھی ہمت نہ ہارو؛ مایوس نہ ہو ہرگز بڑھ کر نہ ہٹو پیچھے؛ اکتاؤ نہ محنت سے کلام طاهر ۱۴۵ ہمیں بٹھلا کے، بڑی تیزی سے پھر جاتا تھا اپنے بچوں کو لئے ساتھ ؛ وہ سوئے بازار ہے ایم ٹی اے بڑا مقبول؛ اس کو پنجابی لگا کے اپنے گھروں پر "آبل" کے دیکھتے ہیں ہیں لوگ وہ بھی چاہتے ہیں دولت جہاں ملے ز میں ملے، مکاں ملے؛ سکونِ قلب و جاں ملے اعظم صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم ۱۴۷ ۱۴۸ ۱۵۰ ۱۵۱ ۱۵۲ بادئی کامل رہبر ۱۴ ہیں جان و جسم؛ سو تیری گلیوں پہ ہیں نثار اولاد ہے؛ سو وہ ترے قدموں پہ ہے فدا ہے زندہ قوم وہ ؛ نہ جس میں ضعف کا نشاں ملے کہ پیر پیر ، طفل طفل ؛ جس کا نوجواں ملے ہمارے حال کے جب آئینے میں جھانکتے ہیں تو اس میں اپنے زبوں حال؛ کل کے دیکھتے ہیں ہوشیار بننے والوں کو بدھو بناؤں میں جب مجھ کو کھانے دوڑیں، کہیں بھاگ جاؤں میں ہے مجھے تلاش اس کی؛ جو کبھی کا کھو چکا ہے مجھے جستجو کا کر کے؛ کہیں دُور سے اشارا ۱۵۴ ہو کسی کے تم سراپا؛ مگر آہ! کیا کروں میں میری روح بھی تمہاری؛ میرا جسم بھی تمہارا ۱۵۵ ہمت کس کو تھی کہ اُٹھتا؟ کس کا دل گردہ تھا نکلتا کس کا پتا تھا کہ اُٹھ کر ؛ مردحق کے مقابل آئے ۱۵۳ ۱۵۶ ۱۵۷ ۱۵۸ ۱۵۹ ۱۶۰ ہر اتنا حسین تھا؛ تصور سے تصویر اُبھرنے لگی؛ ذکر نام بن کر زباں پر اترنے لگی کہ ہر لفظ نے فرط الفت سے بوسے زباں کے لئے ہر لحظہ میرے درپئے آزار ہیں وہ لوگ جو تجھ سے میرے قرب کی رکھتے نہیں خبر ہر لحظہ بڑھ رہا ہے؛ میرا تجھ سے پیار دیکھ ! سانسوں میں بس رہا ہے؛ ترا عشق دم بدم چلتا ہے دور مینہ و ہیں بادہ مست باده؛ آشام احمدیت جام احمدیت ہے ترے پاس کیا گالیوں کے سوا کل چلی تھی جو لیکھو تیغ دعا؛ ساتھ میرے ہے تائید رب الوری آج بھی اذن ہوگا، تو چل جائے گی