بیت بازی

by Other Authors

Page 301 of 871

بیت بازی — Page 301

301 ہم نے خور ھدی؛ وہی ایک ہم نے دیکھا ہے دل رُبا؛ وہی ایک کر چکے واللہ ہادی ہمارا کام تھا وعظ و منادی سو رد و عدن ہاں ہاں! یہ کیا کہ بیٹھ رہا جی کو چھوڑ کر بھائی! خدا کے واسطے ایسا غضب نہ کر ہاں کچھ بھی شک نہیں ہے؟ کہ ہمارے قصور ہیں مانگو دعائیں رگر کے خدا کے حضور میں ہم مرچکیں گے جب ہمیں صورت دکھاؤ گے؟ کس کام آؤ گے؟ جو نہ اس وقت آؤ گے تیمار دار پکتی تھی ادھر وہ خوش سرشت ہاتھ ملتے تھے ادھر ہم نے خدا کے دین کو بالکل بھلا دیا جو جو تھے حکم؛ سب کو نظر سے گرا دیا ہرگز کرے نہ کام کوئی نام کیلئے ہو مال خرچ؛ دین کے اکرام کیلئے ہم مر رہے ہیں، بھیج مسیحا کو اے خدا! آنکھوں میں دم ہے تن سے نکل کر اٹک رہا ہو وفا کو ناز جس پر جب ملے ایسا مطاع کیوں نہ ہو مشہور عائم؛ پھر وفائے قادیاں ہیں مال مست امیر؛ تو ہم کھال مست ہیں اس رنگ میں غریب کو غربت پہ ناز ہے ہم نے ہر فضل کے پردے کے پردے میں؟ اُسی کو پایا وہی جلوہ؛ ہمیں مستور نظر آتا ہے رف کفر است جوشان افواج يـــــزيــــــد دین بيــمــــار و بـے کـــــــس دين ہمیں داغ جدائی آج دے کر ہوا حاضر حضور یار جانی ہر دم دل بیمار کو رہتی ہے تمنا کچھ اور بڑھے؛ شدت آزار محبت ہو کے اندھے پڑے بھٹکتے تھے ہم کو بینا بنا دیا تو نے ہر گام پہ پاؤں پھسلتے ہیں آفات کے جھکڑ چلتے ہیں جب صبر کا دامن ہاتھوں سے رہ رہ کر چھو ٹا جاتا ہے ہے کشادہ آپ کا باب سخا سب کیلئے زیر احساں کیوں نہ ہوں پھر مر دوزن ، پیر و جواں ہے یہی ماہ مبیں؛ جس پر زوال آتا نہیں ہے یہی گلشن؛ جسے چھوٹی نہیں بادخزاں همین مراد مرا بود "كل جهان گوید " چه تاب است زبان را که مدح آن گوید 1۔0 1+1 ۱۰۲ ۱۰۳ ۱۰۴ ۱۰۵ ۱۰۶ ۱۰۷ ۱۰۸ 1+9 11۔۱۱۲ ۱۱۳ ۱۱۴ ۱۱۵ ۱۱۶ 112 ۱۱۸ 119