بیت بازی

by Other Authors

Page 291 of 871

بیت بازی — Page 291

291 وہ کیسا سر ہے؛ جو چھکتا ہے آگے ہر کہ ومہ کے وہ کیسی آنکھ ہے؛ جو ہر جگہ دریا بہاتی ہے وہ شہر جو گھر کا ہے مرکز ہے جس ؛ خُدائے واحد کے نام پر اک؛ په دین مسیح نازاں اب اُس میں مسجد بنائیں گے ہم وقت حسرت نہیں یہ ہمت و کوشش کا ہے وقت عقل و دانائی سے کچھ کام لے؛ نادان نہ ہو وہ بھی کچھ یار ہے، جو یار سے یک جاں نہ کرے وہ بھی کیا یار ہے؛ جو خو بیوں کی کان نہ ہو وصل کا لطف تبھی ہے؟ کہ رہیں ہوش بجا دل بھی قبضہ میں رہے؛ پہلو میں دلدار بھی ہو وفا! تجھ سے مری شہرت نہیں ؛ بر عکس ہے قصہ تری ہستی ، تو مجھ سے ہے؛ نہ میں ہوتا، نہ تو ہوتی وہ بوجھ اُٹھا نہ سکے جس کو آسمان و زمیں اُسے اُٹھانے کو آیا ہوں؛ کیا عجیب ہوں میں وہ غنی ہے، پہ نہیں اُس کو یہ ہرگز بھی پسند غیر سے تیرا تعلق رہے؛ اُس کا ہو کر وہ ہے خوش اموال پر؛ یہ طالب دیدار ہے بادشاہوں سے بھی افضل ہے؛ گدائے قادیاں واسطہ جہل سے پڑا؛ وہم ہوا رفیق دہر علم کدھر کو چل دیا جاتا رہا بیان کیوں ورنہ حضور کہیں بندہ فرار رہتا وحشت عارضی ہے؛ ہے وہ پیٹر ہو رہے تھے جو مدت سے چُوب خشک پڑتے ہی ایک چھینٹا؛ دلہن سے نکھر گئے وہ خوش قسمت ہیں جور گر پڑ کے اُس مجلس میں جاپہنچے کبھی پائیوں پر سر رکھا؟ کبھی دامن سے جا لیٹے وہ کپ سُرخ ہیں گویائی پہ آماده پھر سخت ارزاں مئے گلفام ہوئی جاتی وہ میرا ہے تا ایک ؛ میں ہوں اُسی کا ازازل مجھ کو کیا حُور و جناں سے؛ وہ مرا وہ نہیں لایا ہے مقصود ہے ساتھ اپنے ہدایا وہ خالی ہاتھ ہے ہر پیشکش حیوانوں وہ ޏ بدتر ہو رہا ہے نہیں تقویٰ میں حاصل کوئی پایا - وہ نیک اختر میری ناصرہ؛ وہ عقیلہ باسعادت پاک جوہر وہ شمع رو؛ کہ جسے دیکھ کر ہزاروں شمع بھڑک اٹھی تھیں بسوز ہزار پروانہ وہ جس کے چہرہ سے ظاہر تھا نُور ربانی ملک کو بھی جو بناتا تھا اپنا دیوانہ وہ صحیں سبتیں ؛ کہ نئی زندگی دلاتی تھیں وہ آج میرے لیے کیوں بنی ہیں افسانہ ۲۰۲ ۲۰۳ ۲۰۴ ۴۰۵ ۲۰۶ ۲۰۸ ۲۱۰ ۲۱۱ ۲۱۲ ۲۱۳ ۲۱۴ ۲۱۵ ۲۱۶ ۲۱۷ ۲۱۸ ۲۱۹ ۲۲۰ ۲۲۱ ۲۲۲