بیت بازی — Page 215
215 ۲۶۵ ۲۶۷ کیا ادا ہے، مرے خالق میرے مالک ؛ مرے گھر چھپ کے چوروں کی طرح رات کو آنے والے ۲۲۲ کرو تیاری؛ بس اب آئی تمہاری باری یوں ہی ایام پھرا کرتے ہیں باری باری کیا موج تھی ؟ جب دل نے پچھے نام خدا کے اک ذکر کی دھونی میرے سینے میں رما کے کلید فتح و ظفر تھمائی تمہیں خدا نے اب آسماں پر نشان فتح و ظفر ہے لکھا گیا تمہارے ہی نام کہنا کون رہ فراق سے کوٹ کے پھر نہ آسکا کس کے نقوش منتظر؛ رہ گئے بے محل پڑے ۲۶۸ ۲۶۹ ۲۷۰ ۲۷۱ ۲۷۲ کیا جاتا ہے کہ چمنیوں سے؛ اُٹھا ہے دھواں آہوں کی طرح اک درد به داماں سُرمی رت نے؛ سارا أفق کجلایا ہے کوئی احمدیوں کے امام سے بڑھ کر کیا دنیا میں فنی ہو گا ہیں سچے دل اس کی دولت اخلاص اس کا سرمایہ ہے کیا قبروں پر رو رو کر ہی؛ کیا یوں بھی کسی نے؛ نیوں کی پیاس بجھا لیں گے روٹھے یار منا کر بھاگ جگائے ہیں ۲۷۳ کہہ رہا ۲۷۴ ۲۷۵ ۲۷۶ ۲۷۷ ۲۷۸ خرام بادصبا متلک دم چلے؛ مُدام چلو کبھی ٹھہرو تو مثل ابر بہار جب پرس جائے فیض جائے فیض عام چلو کیا تم کو خبر ہے؛ کہ مولا کے اسیرو تم سے مجھے اک رشتہ جاں سب سے سوا ہے کس دن مجھے تم یاد نہیں آئے؛ مگر آج کیا روز قیامت ہے؛ کہ اک حشر بپا ہے کنارے گونج اٹھے ہیں زمیں کے جاگ اُٹھو کہ اک کروڑ صدا؛ اک صدا سے اٹھی ہے کرتے تھے آ آ کے بیرے؛ پنکھ پکھیر وشام سویرے پھولوں اور پھلوں سے بوجھل بستاں کا ایک ایک شجر تھا کبھی اذن ہو، تو عاشق، دریار تک تو پہنچے یہ ذرا سی اک نگارش ہے؛ نگار تک تو پہنچے کچھ عجب نہیں کہ کانٹوں کو بھی پھول پھل عطا ہوں مری چاہ کی حلاوت رگِ خار تک تو پہنچے کسے فکر عاقبت ہے؛ انہیں بس یہی بہت ہے کہ رہینِ مرگ؛ داتا کے مزار تک تو پہنچے کبھی تو آکے ملیں گے؛ چلو خدا کے سپرد کبھی تو دیکھیں گے احیائے ٹو کا ہم اعجاز کانٹوں نے بہت یاد کیا اُن کو خزاں میں جو گل کبھی زندہ تھے؛ بہاروں کے سہارے ۲۸۴ کیا ان کا بھروسہ ہے؛ جودیتے تھے بھروسے لو مر گئے، جیتے تھے جو پیاروں کے سہارے ۲۷۹ ۲۸۰ ۲۸۱ ۲۸۲ ۲۸۳