بیت بازی

by Other Authors

Page 129 of 871

بیت بازی — Page 129

129 خدمت دیں کے واسطے خدمت دیں ہوئی ہے تیرے سپرد دور کرنا ہے تو نے شر و فساد ہو جا ساری قیدوں کو توڑ کر آزاد خُدا کو چھوڑ نا؛ اے مسلمو! کیا کھیل سمجھے تھے تمھاری تیرہ بختی؛ دیکھئے کیا رنگ لاتی ہے خُدا نے ہے خضر رہ بنایا؛ جو ھولے بھٹکے ہوئے ہیں؛ ۱۱۴ ۱۱۵ ۱۱۶ ۱۱۷ ۱۱۸ ۱۱۹ ۱۲۰ ۱۲۱ ۱۲۲ ۱۲۳ ۱۲۴ ۱۲۵ ہمیں خفگی طريق محمدی کا ان کو صنم سے لا کر ملائیں گے ہم خبر بھی ہے کچھ تجھے او ناداں کہ مردم پشم یار ہیں ہم اگر ہمیں کچھ نظر سے دیکھا تو تجھ پہ بھی گرائیں گے ہم خیر اندیشی احباب رہے مد نظر عیب چینی نہ کرو؛ مفسد و تمام نہ ہو خانہ دل کبھی آباد نہ ہوگا؟ جب تک میزباں میں نہ بنوں؛ اور وہ مہمان نہ ہو خود ہی جب وید کے پڑھنے سے وہ محروم رہے پھر کسی غیر کو رکس طرح سکھائے کوئی دو چار دنوں کی تو ہوئی؟ پر یہ کیا سال ہا سال مجھے منہ نہ دکھائے کوئی خلق و تکوین جہاں راست؛ یہ سچ پوچھو تو بات تب ہے؛ کہ مری بگڑی بنائے کوئی خیال رہتا ہے ہمیشہ اُس مقام پاک کا سوتے سوتے بھی یہ کہہ اُٹھتا ہوں؛ ہائے قادیاں! خُلق تیرے کدھر گئے، خلق کو جن پہ ناز تھا دل تیرا کیوں بدل گیا؛ بگڑی تیری زبان کیوں خُدا شاہد ہے اس کی راہ میں مرنے کی خواہش میں میرا ہر ذرہ تن، جھک رہا ہے؛ التجا ہوکر لم خانہ دیکھتے تھے جو؛ آنکھوں میں یار کی تھے بے پئے کے مست جو؛ مستانے کیا ہوئے خوف اگر ہے؛ تو یہ ہے تجھ کو نہ پاؤں ناراض جان جانے کا تو ؛ اے جانِ جہاں! ڈر ہی نہیں خواہش وصل کروں بھی، تو کروں کیونکر میں کیا کہوں اُن سے؛ کہ مجھ میں کوئی جو ہر ہی نہیں ہے اُن کی رنجش بھی تو؛ انعام ہوئی جاتی ہے خواہ تم کتنا ہی ڈانٹو؛ خواہ تم کتنا ہی کو سو خواہ تم کتنا ہی جھڑ کو ، میں تمھیں جانے نہ دوں گا خواہ مجھ سے رُوٹھ جاؤ ؛ مُنہ نہ سالوں تک دکھاؤ یاد سے اپنی بھلا ؤ، میں تمھیں جانے نہ دوں گا خُدایا! اے میرے پیارے خُدایا! اله العــــالميــس ؛ رَبُّ البرايا ۱۳ خدا کا فضل ان پر ہو گیا ہے کلام اللہ کا ۱۲۷ ۱۲۸ ۱۲۹ ۱۳۰ ۱۳۱ ۱۳۲ ۱۳۳ خودسری تیری؛ گر اسلام ہوئی جاتی خلعت ملا ہے