بیت بازی — Page 127
127 خوں بار بلکتے ہوئے جھرنوں کی زمیں ہے کو خیز جواں سال تھیلوں کا وطن ہے خدا کرے؛ کہ مرے اک بھی ہم وطن کیلئے حیات مُجرم نہ ہو؛ زندگی وبال نہ ہو خدا کے فضلوں پر ہوتا ہے اپنا دل ٹھنڈا تو مولوی ہمیں کیوں اتنا جل کے دیکھتے ہیں کم آب؛ برگ گل کی انگڑائی دین غنچہ نیم سا تھا خوش تکلم سا خوش ادا سا تھا ہے تکلف سا؛ بے ریا سا تھا خامشی میں سرود ہے گفتگو میں غزل سرا سا تھا آواز خوش ہو کے کر ورخصت دیکھو تم ناحق اپنی پلکوں پر جو اشک سجائے بیٹھے ہو ان اشکوں کو ڈھل جانے دو دیکھوتم خیرات ہو مجھ کو بھی اک جلوہ عام اس کا پھر یوں ہو؛ کہ ہو دل پر الہام کلام اُس کا کلام محمود خدایا! اس بنی پر اور بہنے پر فضل کر اپنا اور ان کے دل میں پیدا کر دے جوش دیں کی خدمت کا خُدا کا رحم ہونے کو خدا ہے محمود تیر ہو رہا چاہئے ہے لو لگانی ہے آسماں فانی ہیں؟ پر وہ وہ غیر فانی میں کامرانی فسبحان الذى اوفى الامـــــانـــي خدا نے ہم کو دی ہے کامرانی خدا نے ہم کو وہ جلوہ دکھایا جو موسیٰ کو دکھایا تھا؛ سر طور ۷۳ ۷۴ ۷۵ 22 ZA 29 ۸۰ ΔΙ ۸۳ ۸۴ ۸۵ ۸۶ خدمت دین کو اک فضل الہی جانو اس کے بدلے میں کبھی؛ طالب انعام نہ ہو ۸۷ خدا تو عرش سے اُترا ہے مُنہ دکھانے کو پر آدمی ہیں؟ کہ بس منہ بنائے پھرتے ہیں ۸۸ ۸۹ ۹۰ ۹۱ خدا کے منتظر ہیں ہائے! نے لاکھوں نشاں دکھائے؟ عذاب نہ پھر بھی ایمان لوگ لائے نہیں جو بد بختی یہ تو کیا ہے بک میری کر شفاعت؛ مجھے بھی اب وہ کرے عنایت؛ خدا که علم و نور و ھدی کی دولت یہی میری اُس سے التجا ہے خُفیہ ہو ہو کوئی بات؛ تو بتلاؤں میں تمہیں طرزِ حکومت ان کی؛ ہراک پر عیان ہے خُدایا دردِ دل سے ہے یہ سے ہے یہ خواہش میرا تو ساتھ دے دونوں جہاں میں