بیت بازی — Page 857
857 یا الہی عمر طبعی اس کو دے رکھ اسے محفوظ رنج و ورد یہ وہ بیمار تھا؛ جس کو سبھی رو بیٹھے تھے ہاتھ سب اس کی شفایابی سے دھو بیٹھے تھے یہی ہے؛ کہ گمراہ تم ہو گئے ہو نہ پہلا سا علم؛ اور نہ وہ اتقا ہے ایک دریائے معرفت ہے؛ تو اس کی نظروں میں ساری دنیا؛ لگائے اس میں جو ایک غوطہ فریب ہے، جھوٹ ہے، دعا ہے چلتے ہیں یوں اکثر اکثر کر که گویا ان کے ہیں بحر اور بُر پڑے ہیں آنکھوں پہ ایسے پتھر ، کہ شرم ہے کچھ نہ کچھ دیا ہے 1+1 ۱۰۲ ۱۳ ۱۰۴