بیت بازی

by Other Authors

Page 856 of 871

بیت بازی — Page 856

856 یہ نعمت؛ سارے انعاموں کی جاں ہے جو سچ پوچھو، یہی باغ جناں ہے یہی ہے دین ودنیا کی بھلائی اسی دور رہتی ہے بُرائی یہ جسم مرا سر سے پا تک جو مُعَطَّر ہے راز اس میں ہے یہ زاہد؛ وہ خواب میں آئے تھے يا رَبِّ سَرنِى بِجُنَّةِ عَفوَكَ كُن نَاصِرِى وَمُصَاحِبِي وَمُحَامِـي يَا رَبِّ صَاحِبْهَا بِلُطفِكَ دَائِماً وَاجعَل لَّهَـا مَــأوى بِقَبْرٍ سَـامِـى یکتا ہے تو ، تو میں بھی ہوں اک مُنفَرِ دوجود میرے سوا ہے آج محبت کیسے تیری تم کو ہو گیا کیا؟ اہلِ ملت! نہیں کیا یاد وہ وعدے وفا کے؟ یہ مُنہ ہیں؟ کہ آہن گروں کی دھونکنیاں ہیں دل سینوں میں ہیں؛ یا کہ سپیروں کے پٹارے یاں عالم اُن کو کہتے ہیں؟ جب دیکھو! بھیڑیا نکلے گا؟ جو دین کورے ہوتے ہیں جو بھیڑوں کا رکھوالی ہے یہ کھیل اضداد کی عرصہ سے تیرے گھر میں جاری ہے کبھی ہے مارکس کا چرچا؟ کبھی درس بخاری ہے یہ ظاہر میں غلامی ہے؛ مگر باطن میں آزادی نہ ہونا مخحرف ہرگز؛ محمد کی حکومت سے یہ گھر تو تو نے بنایا تھا؟ اپنے رہنے کو جوں کو کعبہ دل سے نکال دے؛ پیارے! یہ متاع ہوشِ دینداری کبھی لٹنا بھی ہے اس جہاں کی قید و بندش سے کبھی چھٹا بھی ہے کیسا پیار ہے اہل وعیال سے تیرا شکم غریبوں کا انگاروں سے جو بھرتا ہے یہ کیسی ہے تقدیر؛ جو مٹتے نہیں ملتی پتھر کی ہے تحریر جو ملتے نہیں ملتی یہ دم ہے غنیمت؟ کوئی کام کرلو کہ اس زندگی کا بھروسہ ہی کیا ہے مناظر دیکھتا جا کربلا کے دیکھتا جا؟ یہ یزیدی شان کے مالک! ادھر یہی رات دن؛ اب تو میری صدا آ ہے گنگا تو الٹی ہے جارہی ہے خاکسار نابکار؛ دلبرا وہی تو یہ میرا خدا ہے؛ یہ میرا خدا ہے جو مسلم کی دولت تھی؛ کافر نے کھائی ہے کہ جس کو آپ کہتے تھے؛ ہے باوفا وہی تو ہے یارو! مسیح وقت؛ کہ تھی جن کی انتظار رہ تکتے تکتے جن کی؛ کروڑوں ہی مرگئے ۷۹ ۸۰ ΔΙ ۸۲ ۸۳ ۸۴ ۸۵ ۸۶ ۸۷ ۸۸ ۸۹ ۹۰ ۹۱ ۹۲ ۹۳ ۹۴ ۹۵ ۹۶ ۹۷ ۹۸ ٩٩