بیت بازی — Page 855
855 ۶۲ ۶۳ ۶۴ ۶۶ ۶۷ ۶۸ ۶۹ اے ۷۲ ۷۳ ۷۴ ۷۵ ۷۶ LL ZA تو میرے دل ہی کا عگس کو جنون ہے ہے؛ آرزو مجھے بنا دے؛ تو پھر جو چاہے قضا کرے یاں عقل و دل معملش این و آں رہے میں نہیں ہوں پر مری یاروں نے اپنے اپنے مقاصد کو جالیا یا جوش و ذوق و شوق؛ یا کم ہمتی سے ضعف سب کچھ ہوا کیا؛ پہ جہاں کے تہاں رہے شجر خزاں رسیدہ؛ مجھے ہے عزیز یارب! یہ اک اور وصل تازہ کی بہار تک تو پہنچے صدائے فقیرانہ حق فقیرانه حق آشنا؛ تیری آواز اے دشمن نوا! پھیلتی جائے گی شش جہت میں سدا دو قدم دور، دو تین پل جائے گی قصص عجیب و غریب ہیں؟ مجھے کیسے خود سے جدا کرے؛ اُسے کچھ بتاؤ کہ کیا کرے تہ محبتوں کے نصیب ہیں سے ملا ہے یا رب! یہ گدا تیرے ہی ڈر کا ہے سوالی جو دان ملا؛ تیری ہی چوکھٹ یادوں کے مسافر ہو؛ تمناؤں کے پیکر بھر دیتے ہو دل؛ پھر بھی وہی ایک خلا ہے تھا معجزہ آج بھی دیکھنا؟ مرد حق کی دُعا؟ کہ عصا، ساحروں کے مقابل بنا اژدھا سحر کی ناگنوں کو نگل جائے گی محبتوں کا لشکر؛ جو کرے گا فتح خیبر ذرا تیرے بغض و نفرت کے حصار تک تو پہنچے دعا ہی کا کلام محمود مگر حق تو ہے؛ کہ وہ آگیا ہے یہ ہے دوسری بات مانو نه مانو ہے یہی اک پاک دل کی آرزو ہے جامع کیوں نہ ہو؛ سب خوبیوں کا تسکیں ده یہی کہ اس کا کا مدعا ہے بھیجنے والا ؛ خُدا ہے محبت کو عُشاق مُضطر مريضان ޏ شفا ہے کرے جو حرف گیری؛ بے حیا ہے یہ ہے بے عیب ہر نقص و کمی یہ بے رخی ہے کس سبب سے میں وہی ہوں جو کہ تھا میرے گنہ وہی تو ہیں؛ میری خطا وہی تو ہے یارانِ وطن! یہ خواب جنت کس کام دوزخ میں پہنچ چکے ہو؛ سوتے سوتے