بیت بازی — Page 850
850 ۱۰۲ ۱۰۴ ۱۰۵ 1+4 ۱۰۷ ۱۰۸ ۱۰۹ 11۔۱۱۲ ہے جس کا پھول خوش نُما ہے جس کی چال جاں فزا جس کی چال جاں فزا میرا چمن وہی تو ہے؛ میری صبا وہی تو ہے ہوں اک عرصہ سے خواہان اجازت میرے بارے میں بھی فرمان نکلے ہوا کیا سیر عالم کا نتیجہ پریشاں آئے تھے؟ حیران نکلے ہے زمیں پر سر مرا؛ لیکن وہی مسجود ہے آنکھ سے اوجھل ہے گو؛ دل میں وہی موجود ہے ہے حیات شمع کا سب ماحصل سوزوگداز اک دل پرخون ہے یہ اکتساب زندگی ہزاروں حسرتیں جل کر فنا ہونے کی رکھتا ہے ہٹا بھی دیں ذرا فانوس؛ اک پروانہ آتا ہے ہم کس کی محبت میں دوڑے چلے آئے تھے وہ کون سے رشتے تھے، جو کھینچ کے لائے تھے ہم کو تری رفاقت حاصل رہے ہمیشہ ایسا نہ ہو؛ کہ دھوکہ، شیطان مجھ کو دے دے ہو جائیں جس سے ڈھیلی ؛ سب فلسفہ کی پولیس میرے حکیم! ایسابُرہان مجھ کو دے دے ہے سب جہاں سے جنگ سہیڑی تیرے لیے اب یہ نہ ہو؛ کہ تو ہمیں دِل سے اُتار دے ہر وقت مئے عشق یہاں سے رہے پیتی ویرانہ دل کو مرے؛ میخانہ بنادے ہوتی نہ اگر روشن وہ شمع رخ انور کیوں جمع یہاں ہوتے؛ سب دنیا کے پروانے آئی؛ اسلام کی جنگوں کی آغاز تو میں کردوں؛ انجام خُدا جانے دعوت نظر تری طرز حجاب میں ڈھونڈا کرے کوئی تجھے پایا کرے کوئی ہوا زمانہ کی بھی کبھی بگڑتی جب ہے مری نگاه تو بس جا کے تجھ پہ پڑتی ہے ہو رُوح عشق تیری؛ مرے دل میں جاگزیں تصویر میری آنکھ میں آکر کیسے تری ہوش کر دشمن ناداں! یہ تو کیا کرتا ہے ساتھ ہے جس کے خُدا؛ اُس پہ جفا کرتا ہے ہے ہر گھڑی کرامت و ہرلمحہ مُعجزه یہ میری زندگی ہے؛ کہ حق کا ظہور ہے ہے زندگی میں دخل؛ نہ کچھ موت پر ہے زور تو چیز کیا ہے؛ ایک سر پر غرور ہے ہے امن کا داروغہ بنایا جنھیں تو نے خود کر رہے ہیں فتنوں کو آنکھوں سے اشارے ہے مدت سے شیطان کے ہاتھ آئی حکومت جہاں کی؛ خُدا کی خُدائی ہر اک چیز اُلٹی نظر آرہی ہے بھلائی بُرائی بُرائی بُرائی ہے ساعت سعد آئی؛ ہے بھلائی ۱۱۳ ۱۱۴ ۱۱۵ 112 ۱۱۸ ۱۱۹ ۱۲۰ ۱۲۱ ۱۲۲ ۱۲۳