بیت بازی

by Other Authors

Page 847 of 871

بیت بازی — Page 847

۴۳ 847 ہو نذر جاں قبول؛ تو مشہد قریب ہے بڑھتے چلو کہ منزل مقصد قریب ہے ہمیں داغ جدائی آج دے کر ہوا حاضر حضور یار جانی ۴۶ ۴۸ ۴۹ ہم مرچکیں گے جب ہمیں صورت دکھاؤ گے؟ کس کام آؤ گے؟ جو نہ اس وقت آؤ گے ہرگز کرے نہ کام کوئی؛ نام کیلئے ہو مال خرچ دین کے اکرام کیلئے ہر تصور ނ کلام طاهر ۴۷ ہمت کس کو تھی کہ اُٹھتا ؛ رکس کا دل گردہ تھا نکلتا کس کا پتا تھا کہ اُٹھ کر ؛ مردِحق کے مقابل آئے ہرموج خونِ گل کا گریباں ہے چاک چاک ہر گل بدن کا پیرہن تن اُداس ہے تصویر ابھرنے لگی؛ ذکر اتنا حسیں تھا، کہ ہر لفظ نے نام بن کر زباں پر اُترنے لگی فرط اُلفت سے بوسے زباں کے لئے ہے ترے پاس کیا، گالیوں کے ہوا؟ کل چلی تھی جو لیکھو تیغ دعا؛ ساتھ میرے ہے تائید رب الوریٰ آج بھی اذن ہوگا، تو چل جائے گی ہو اجازت؛ تو ترے پاؤں پہ سر رکھ کے کہوں کیا ہوئے دن تیری غیرت کے دکھانے والے ہم نہ ہوں گے، تو ہمیں کیا؟ کوئی کل کیا دیکھے آج دکھلا؛ جو دکھانا ہے، دیکھانے والے ہ ہم نے تو صبرو تو کل سے گزاری باری ہاں! مگر تم پہ بہت ہوگی یہ بھاری باری ۵۰ ۵۱ ۵۲ ۵۳ ۵۴ ۵۶ ۵۷ ۵۸ ۵۹ ہیں نکلے تھے جو سینوں ترا نام سجا کے کتنے ہی پابند سلاسل وہ گنہگار ہر مکر اُنہی پر اُلٹے گا؟ ہر بات مخالف جائے گی بالآخر میرے مولا کی تقدیر ہی غالب آئے گی ہوئی میزان ہفتہ کب آغاز؟ کیسے دن رات سات سات بنے؟ ہم آن ملیں گے متوالو! بس دیر ہے کل یا پرسوں کی ہم آمنے سامنے بیٹھیں گے؟ تو فرط طَرَب دونوں کی دیکھو گے تو آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی دید کے ترسوں کی آنکھیں ساؤن برسائیں گی؛ اور پیاس بجھے گی برسوں کی لمحہ فراق ہے عمر دراز غم گزرا نہ چین سے کوئی پل؛ آپ کیلئے