بیت بازی — Page 846
846 ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ہم کو نہیں سکھاتا وہ پاک بد زبانی تقویٰ کی جڑھ یہی ہے؛ صدق وصفا یہی ہے ہم نے نہیں بنائیں؛ یہ اپنے دل سے باتیں ویدوں سے اے عزیزو! ہم کو ملا یہی ہے ہم نے ہے جس کو مانا؛ قادر ہے وہ توانا اس نے ہے کچھ دیکھانا؛ اس سے رجا یہی ہے ہم مر چکے ہیں غم سے؛ کیا پوچھتے ہو ہم سے اس یار کی نظر میں؛ شرط وفا یہی ہے ہر جاز میں کے کیڑے؛ دیں کے ہوئے ہیں دشمن اسلام پر خدا سے؛ آج ابتلا یہی ہے ہم تھے دلوں کے اندھے سوسو دلوں میں پھندے پھر کھولے جس نے جندے؛ وہ مجتبی یہی ہے ہم خاک میں ملے ہیں؛ شاید! ملے وہ دلبر جیتا ہوں اس ہوس سے؛ میری غذا یہی ہے ۲۹ ہم نے نہ عہد پالا؛ یاری میں رخنہ ڈالا پر تو ہے فضل والا؛ ہم پر کھلا یہی ہے ۲۶ ۲۷ ۲۸ ۳۰ ۳۱ ۳۲ ۳۳ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۰ ۴۱ ۴۲ ہمارا کام تھا وعظ و منادی سو ہم سب کرچکے واللہ بادی در عدن ہیں مال مست امیر؛ تو ہم کھال مست ہیں اس رنگ میں غریب کو غربت پہ ناز ہے ہم نے ہر فضل کے پردے میں؛ اسی کو پایا وہی جلوہ ہمیں مستور نظر آتا ہے ہو کے اندھے پڑے بھٹکتے تھے ہم کو بینا بنا دیا تو نے ہر گام پہ پاؤں پھسلتے ہیں آفات کے جھگڑہ چلتے ہیں جب صبر کا دامن ہاتھوں سے رہ رہ کر چھوٹا جاتا ہے کے زیر سایہ دعاؤں کے لئے بھاری خزانے جنت سجانے گلشن وقت آ بھی گیا ہو؟ تو وہ ٹل سکتا ہے مولیٰ ہے ہزاروں رحمتوں کے زیر ہمارے گھر کی زینت جا رہی ہے بساط ہر آن ترا حکم تو چل سکتا ہر دم مولی لگی ہوئی ہے سر راہ پر نظر آخر ہماری آنکھ کے تارے کب آئیں گے ہماری جان فدا سید الوراء کیلئے سبھی نثار ہیں اس شاہ دوسرا کیلئے ہاں! یاد رہے خالد؛ یہ شان ہے مومن کی مایوس نہیں ہوتا اللہ کی رحمت سے ہمت نہ کبھی ہارو؛ مایوس نہ ہو ہرگز بڑھ کر، نہ ہٹو پیچھے؛ اکتاؤ نہ محنت سے ہم تو دل دے کے جان سے اپنی کوئے جاناں میں ہاتھ دھو آئے