بیت بازی

by Other Authors

Page 845 of 871

بیت بازی — Page 845

845 در ثمین ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے کوئی دیں؛ دین محمد سا نہ پایا ہم نے ہم نے اسلام کو خود تجربہ کر کے دیکھا نور ہے نور اٹھو دیکھو! سنایا ہم نے ہم ہوئے غیر اہم تجھ سے ہی اے خیر رسل تیرے بڑھنے سے؛ قدم آگے بڑھایا ہم نے یہ ہم سے؛ کہ احسانِ خدا ہے ہمیں اُس یار سے تقویٰ عطا ہے ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے ؛ اگر جڑ رہی؛ سب کچھ رہا ہے ہم تیرے در پہ آئے؛ لے کر اُمید بھاری یہ روز کر مبارک سبحــــان مــــن یـــرانــی ہرم سے دُور رکھنا، تو رَبِّ عالمیں ہے یہ روز کر مبارک سبحـان مــن یـــرانــی ہوا ظاہر وہ وہ مجھ پر بــــــــالایـــــــادي فسبحان الذى اخزى الاعادي رہ خدا نے خود دیکھا دی فسبحان الذى اخزى الاعادي فسبحان الذى اخزى الاعادي ہمیں ہوا مجھ وہ ظاہر میرا ہادی ہوا میں تیرے ہوا انجام سب فضلوں کا منادی فسبحان الذى اخزى الاعادي کا نامرادی فسبحان الذى اخزى الاعادي ہر اک اک بگڑی ہوئی، تو نے بنادی فسبحان الذى اخزى الاعادي اک بد خواہ اب کیوں روسیہ ہے ہر چیز میں خدا کی ضیاء کا ظہور ہر اک آزار ہے وہ مثل خسوف مہرومہ ہے پر پھر بھی غافلوں سے وہ دلدار دُور ہے مجھ کو شفا دی مرض گھٹتا گیا جوں جوں دوا دی ہر وقت جھوٹ سچ کی تو عادت نہیں رہی نور خدا کی کچھ بھی علامت نہیں رہی ہے سر رہ پر کھڑا نیکوں کی وہ مولئے کریم نیک کو کچھ غم نہیں ہے؛ گو بڑا گرداب ہے ہاتھ سے جاتا ہے دل؛ دیں کی مصیبت دیکھ کر پر خدا کا ہاتھ اب اس دل کو ٹھہرانے کو ہے ہندو کچھ ایسے بگڑے ، دل پر ہیں بغض و کیں سے ہر بات میں ہے تو ہیں؛ طرز ادا یہی ہے ہم بد نہیں ہیں کہتے؛ ان کے مقدسوں کو تعلیم میں ہماری حکم خدا یہی ہے ۴ ۵ ۷ Λ ۹ ۱۰ ۱۱ ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ 12 ۱۸ ۱۹ ۲۰ ۲۱