بیت بازی

by Other Authors

Page 831 of 871

بیت بازی — Page 831

831 ۱۵۴ ۱۵۵ ۱۵۶ ܝܺܙ میرے آتے ہی ادھر تم پہ کھلا ہے یہ راز تم بھی میدان دلائل کے ہو رن پیروں سے مجھ کو کیا شکوہ ہو تم سے؛ کہ میرے دشمن ہو تم یونہی کرتے چلے آئے ہو جب پیروں سے میری غیبت میں لگالو؛ جو لگانا ہو زور تیر بھی پھینکو؛ کرو حملے بھی شمشیروں سے ماننے والے مرے بڑھ کے رہیں گے تم سے یہ قضا وہ ہے؛ جو بدلے گی نہ تدبیروں سے ۱۵۸ مجھے کو حاصل نہ اگر ہوتی خُدا کی امداد کب کے تم چھید چکے ہوتے مجھے تیروں سے 109 مجھ کو گندہ سمجھ کے مت دھتکار قُرب گل میں ہی خار رہتا ہے مرے ہمراز کہتے ہیں؟ کہ اک شے ٹور ہوتی ہے جب آتی ہے؛ تو تاریکی معا کافور ہوتی ہے مضطرب ہو کے چلے آتے ہیں میری جانب موت ہی وصل کا پیغام ہوئی جاتی میرے پاس آ کے للہ بیٹھ جاؤ کہ پہلو سے میرے شیطان نکلے دید کا ارمان نکلے ہے مٹ گیا جو راہ میں اس کی؛ وہی موجود ہے ۱۶۰ ۱۶۱ ۱۶۳ مجھے سب رنج و گلفت بھول جائے ۱۹۴ مطلقاً غیر از فنا راه بقا مسدود ۱۶۵ ۱۶۶ ۱۶۷ جو تیری ہے ہے مانگ پر ہوتی ہے پیداوار چونکہ وہ نہیں جنس تقویٰ اس لیے دُنیا سے اب مفقود مدعا ہے میری ہستی کا؛ کہ مانگوں بار بار مقتضا اُن کی طبیعت کا سخا وجود ہے میں اپنے پیاروں کی نسبت ؛ ہرگز نہ کروں گا پسند کبھی وہ چھوٹے درجہ پہ راضی ہوں ؛ اور اُن کی نگاہ رہے نیچی ۱۲۸ میں واحد کا ہوں دلدادہ اور واحد میرا پیارا ہے گر تو بھی واحد بن جائے ؛ تو میری آنکھ کا تارہ ہے مبارک جو کہ بیٹا دوسرا ہے خُدا نے اپنی رحمت سے دیا ہے بشارت سے خُدا کی جو ملا ہے نعمت خدا سے حبیب پاک حضرت مصطفی ۱۶۹ ۱۷۰ منور ۱۷۱ میلی ۱۷۲ ۱۷۳ جو کہ مولیٰ کی عطا ہے ہم کو ہے محبت تیری اُن کے دل میں رچ جائے ہراک شیطان کے پنجے سے بچ جائے مجھے کیا اس سے گر دنیا مجھے فرزانہ کہتی ہے تمنا ہے، کہ تم کہہ دو؛ مرا دیوانہ آتا ہے ۱۷۴ میری تو زندگی کٹتی ہے تیری یاد میں پیارے! کبھی تیری زباں پر بھی مرا افسانہ آتا ہے ۱۷۵ محمود راز حسن کو ہم جانتے ہیں خوب صورت کسی کی ٹور کے سانچے میں ڈھل گئی