بیت بازی — Page 830
830 ۱۳۳ ۱۳۴ ۱۳۵ محبت تو وفا ہو کر؛ وفا سے جی چراتی ہے ہماری بن کے اے ظالم ! ہماری خاک اُڑاتی ہے محبت کیا ہے؛ کچھ تم کو خبر بھی ہے، سُنو مجھ سے یہ ہے وہ آگ ؛ جو خود گھر کے مالک کو جلاتی ہے مٹائے گا ہمیں کیا تو ہے اپنی جان کا دشمن ارے ناداں! کبھی عشاق کو بھی موت آتی ہے محبت کی جھلک چھپتی کہاں ہے؟ لاکھ ہوں پر دے نگاہِ زیر میں مجھ سے بھلا تو کیا چھپاتی ہے ۱۳۷ معاذ اللہ میرا دل اور ترک عشق کیا ممکن میں ہوں وہ باقفا؛ جس سے وفا کو شرم آتی ہے میری جاں، تیرے جام وصل کی؟ ۱۳۶ ۱۳۸ ۱۳۹ ۱۴۲ ۱۴۴ ۱۴۶ خواہش میں اے پیارے مثال ماہی بے آب؛ ہردم تلملاتی ہے مرے دل میں تو آتا ہے کہ سب احوال کہہ ڈالوں نہ شکوہ جان لیں اس سے طبیعت ہچکچاتی ہے ۱۳۰ مرد میدان بنے؟ اپنے دلائل لائے گھر میں بیٹھا ہوا؛ باتیں نہ بنائے کوئی مجھ سے ملنے میں اُنھیں عذر نہیں ہے کوئی دل پہ قابو نہیں اپنا؛ یہی دشواری ہے مر کے بھی دیکھ لوں شاید! کہ میسر ہو وصال لوگ کہتے ہیں؟ یہ تدبیر بڑی کاری ہے ۱۴۳ میری یہ آنکھیں کجا؟ رویت دلدار کجا حالت خواب میں ہوں میں ؛ کہ یہ بیداری ہے ہماری جاں فدا ہے کہ وہ کوئے صنم کا رہنما ہے ۱۳۵ مئے وصل حبیب لایزال و لم یول ہوتی تو دل کیا میری جاں بھی بڑھ کے قربانِ سید ہوتی میری جنت تو یہ تھی، میں تیرے سایہ تلے رہتا رواں دل میں میرے عرفانِ بے پایاں کی جو ہوتی ۱۴۷ محمد کو بُرا کہتے ہماری جان و دل جس پر فدا ہے مسیح دنیا کا رہنما ہے؛ غلام احمد ہے، مصطفی ہے بروز اقطاب و انبیاء ہے؛ خدا نہیں ہے؛ خدائما ہے میرے مولیٰ ! میری بگڑی کے بنانے والے میرے پیارے! مجھے فتنوں سے بچانے والے میں تو بد نام ہوں جس دَم سے ہوا ہوں عاشق کہہ لیں جو دل میں ہو؛ الزام لگانے والے ۱۵۱ مجھ کو دکھلاتے ہوئے آپ بھی رہ کھو بیٹھے اے خضر! کیسے ہو تم راہ دکھانے والے ۱۵۲ مجھ سے بڑھ کر ہے مرا فکر تجھے دامن گیر تیرے قربان! مرا بوجھ اُٹھانے والے ۱۵۳ مجھ سے بڑھ کر میری حالت کو یہ کرتے ہیں بیاں منہ سے گوچُپ ہیں مرے پاؤں کے چھالے؛ پیارے ۱۴۸ ۱۴۹ ۱۵۰ تم لوگ ہو