بیت بازی — Page 822
822 ۱۹ ۲۱ ۲۲ لاکھ ہر دے پر جبر کرے؛ لیکن جب صبر نہ آئے بے چارہ دکھیا نینوں سے چھم چھم نیز بہائے لوح جہاں پہ حرف نمایاں نہ بن سکے ہم جس جگہ بھی جا کے رہے؛ بے نشاں رہے لو نغمہ ہائے دردِ نہاں تم بھی کچھ سنو دیکھو نا، میرے دل کی بھی راگن اُداس ہے کلام محمود سب زندگی لطف خلوت جو اُٹھانا ہو؛ اُٹھا لو یارو! دعوت پیر مغاں عام ہوئی جاتی ہے ۲۳ لذت عیش جہاں دیکھ کے پھولا مسلم دانہ سمجھا تھا جسے دام ہوئی جاتی ہے ۲۴ لٹا دوں جان و مال و آبرو جو میرے گھر کبھی تو آن نکلے ۲۵ ٹوٹنے نکلے تھے وہ امن و سکونِ بیکساں خود انہی کے لٹ گئے حسن و شباب لے ہی چلی تھی خُلد سے میری خطا مجھے ان کی نگاہ مہر سے تقدیر ٹل گئی لَوْ لَمْ يَكُنْ تَائِيْدُ رَبِّي مُسَاعِدِى لَاصْبَحْتُ مَيْتَا عُرْضَةً لِسِهَا مِنْ لیں جائزہ عشق؛ میرے عشق سے عاشق دل کو میرے عشاق کا پیمانہ بنادے ۲۹ لعنت کو پکڑ بیٹھے انعام سمجھ کر تم حق نے جو ردا بھیجی؛ تم اس کو ردی سمجھے لاکھوں خطائیں کر کے؛ جو جھکتا ہوں اس طرف پھیلا کے ہاتھ ملتے ہیں؟ مجھ سے وفا یہ ہے ۲۶ ۲۷ ۲۸ ۳۰ ۳۲ ۳۳ ۳۵ ۳۶ ٹوٹنے اُنھیں کہاں فرصت وہ پریشان حال ہیں ایسے لیڈر قوم بھی ہیں؟ ڈاکو بھی اُن کے اندر کمال ہیں ایسے لگاؤں سینہ سے دل میں بٹھاؤں میں تجھ کو نہ دُور بھاگ؛ یونہی میرے پاس آتو سہی لعنت خُدا کے بندوں پر؛ حاشا! کبھی نہیں بچنا ہے گر؛ تو لعنت کفارہ چھوڑ دے لاکھ دوزخ سے بھی بدتر ہے جدائی آپ کی بادشاہی سے ہے بڑھ کر؛ آشنائی آپ کی لڑیں گے آپس میں بھائی باہم نہ ہو گا کوئی کسی کا ہمدم میرا پیارا رسولِ اکرم یہ بات پہلے سے کہہ گیا ہے