بیت بازی

by Other Authors

Page 69 of 871

بیت بازی — Page 69

69 69 ۱۳۵ ۱۳۶ پر چارہ پھر بھی کوئی نہ مانے جو احساں؛ تو کیا کریں ایسے کو بے خرد کہیں؛ یا بے حیا کہیں پھیلا تھا ہر چہار طرف جہل ملک کوئی نہ تھا جو آکے ہمارا ہو چارہ گر ۱۳۷ پوجا کرے، نماز پڑھے؛ کوئی کچھ کرے آزاد کر دیا ہے اُنھوں نے ہر اک بشر پریشاں کیوں نہ ہوں دشمن؛ مسیحا! ظفر کی تیرے ہاتھوں میں عناں ہے ۱۳۸ ۱۳۹ ۱۴۰ ۱۴۱ ۱۴۲ ۱۴۳ ۱۴۵ ۱۴۶ ۱۴۷ ۱۴۸ ۱۴۹ پس اس کی شان میں جو کچھ ہو کہتے ہمارے دل جگر کو چھیدتا ہے پھر بھی مودہ ہے انہیں ؛ جو دین کے غمخوار ہیں کیونکہ وہ دن ہیں ، یقیناً دیں کے پھیلانے کے دن پر تری پشت پہ وہ ہے؛ جسے کہتے ہیں خُدا جس کے آگے ہے ملائک کا بھی ہوتا سرخم شمن خترم ان کافروں کی یہی سزا ہے دین احمد ہو تباہ اور ہو پر وہ غیور خُدا؛ کب اسے کرتا ہے پسند پتھر بھی پکار کر کہیں گے ۱۴۴ بڑا عجب شور جابجا ہے؛ جو ہے وہ دنیا پہ ہی خدا ہے نہ دل میں خوف خدا ر ہا ہے ، نہ آنکھ میں ہی رہی حیا ہے پیشگوئی ہوگئی پوری مسیح وقت کی پھر بہار آئی؛ تو آئے شلج کے آنے کے دن پہنچے گا جلد اپنے کئے کی سزا کو وہ اب بھی گماں جو بد ہے؛ کسی بد گمان کا پر حشر تلک بھی جو رہو اشک فشاں تم تم ہرگز نہ پتا پاؤ گے کچھ آہ رسا کا پھر کیوں نہ مجھ کو مذہب اسلام کا ہو فکر جب جان و دل سے معتقد میرزا ہوں میں پھر آزماؤ اپنے ارادوں کی پختگی پھر تم دلوں کی طاقتوں کا امتحاں کرو ۱۵۰ پھر ریزہ ریزہ کردو بُت شرک و کفر کو کفار و مشرکین کو پھر نیم جاں کرو پہنچا کے چھوڑو جھوٹوں کو پھر اُن کے گھر تلک ہاں! پھر سمند طبع کی جولانیاں کرو پھر تم اُٹھاؤ رنج و تعب؛ دیں کے واسطے قُربان راه دین قربان راه دین محمد میں جاں کرو پھر اپنے ساتھ اور خلائق کو لو ملا نامہربان جو ہیں؛ انھیں مہرباں کرو ۱۵۴ پھر دشمنوں کو حلقہ اُلفت میں باندھ لو جو تم سے لڑ رہے ہیں؟ انہیں ہم زباں کرو ۱۵۵ پھر اس پہ اپنے حال زبوں کو عیاں کرو پھر اُس کے آگے نالہ و آہ و فغاں کرو ۱۵۶ پھر راتیں کاٹو جاگ کے؛ یاد حبیب میں پھر آنسوؤں کا آنکھ سے دریا رواں کرو ۱۵۱ ۱۵۲ ۱۵۳ :