بیت بازی — Page 810
810 کبھی وہ خاک ہو کر ؛ دشمنوں کے سر پہ پڑتی ہے کبھی ہو کر وہ پانی؛ اُن پہ اک طوفان لاتی ہے ہوکر؛ کلام پاک یزداں کا کوئی ثانی نہیں ہرگز اگر لولوئے عماں ہے وگر لعلِ بدخشاں ہے کوئے دلبر میں کھینچ لاتا ہے پھر تو کیا کیا نشاں دکھاتا ہے کیوں تمہیں انکار پر اصرار ہے ہے یہ دیں؛ یا سیرت کفار ہے ۱۰ ۱۲ ۱۴ ۱۵ ۱۶ 12 ۱۸ ۱۹ ۲۰ ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶ کچھ نمونہ اپنی قدرت کا دیکھا تجھ کو سب قدرت ہے؛ اے ربّ الوریٰ! کوئی مذہب نہیں ایسا؛ کہ نشاں دکھلاوے یہ شمر باغ محمد سے ہی کھایا ہم نے کوئی دیکھتا جب اسے دُور تو ملتی خبر اُس کو اُس نور سے کہا ڈور ہو جاؤ تم ہار کے دین خدا دین اسلام ہے خلعت ہاتھوں ہے ނ کرتار کے جو ہو میکر؛ اس کا بد انجام ہے کہ بے شک چولہ پر از نور ہے تمرد وفا بہت دُور ہے کوئی دن کے مہماں ہیں ہم سب سبھی خبر کیا کہ پیغام آوے ابھی کہ تیرا نام ہے و غفار کر فضل سب پہ یکسر رحمت سے کر معطر یہ روز کر مبارک سبــــــــان مـــن یـــرانـــی کرتا ہے پاک دل کو حق دل میں ڈالتا ہے یہ روز کر مبارک سبـــحــــان مـــن یــرانــی ؛ کرو کوشش اگر صدق و صفا ہے که یہ حاصل ہو؛ جو شرط لقا ہے کروں کیونکر ادا میں شکر باری فدا ہو اُس کی رہ میں عمر ساری ہادی فسبحان الذى اخزى الاعــادي کہیں جو کچھ کہیں؟ سر پر خدا ہے پھر آخر ایک دن روز جزا ہے کہاں ہم؛ اور کہاں دنیائے مادی فسبحان الذى اخزى الاعادي کافر جو کہتے تھے؛ وہ نگوں سار ہوگئے جتنے تھے، سب کے سب ہی گرفتار ہو گئے کہاں تک حرص و شوق مال فانی اُٹھو! ڈھونڈو متاع امانی یہ سو سو چھید ہیں تم میں نہانی ملک و مال؛ جھوٹی کہانی ہے کہاں تک جوش آمال و کرو کچھ فکر ملک جاودانی آسمانی