بیت بازی

by Other Authors

Page 808 of 871

بیت بازی — Page 808

808 ۷ قادر ہے وہ بارگاہ ٹوٹا کام بناوے بنا بنایا توڑدے؛ کوئی اُس کا بھید نہ پاوے تو قرباں ہیں تجھ پہ سارے؛ جو ہیں مرے پیارے احساں ہیں تیرے بھارے گن گن کے ہم تو ہارے آخر اس کی طرف ہی رحلت ہے قوم سے مت ڈرو؛ خدا سے ڈرو قدرت نہیں ہے جس میں؛ وہ خاک کا ہے ایشر کیا دینِ حق کے آگے زور آزما یہی ہے قرآن خدا نما ہے؛ خدا کا کلام ہے بے اس کے معرفت کا چمن ناتمام ہے قصوں کا یہ اثر ہے؛ کہ دل پرفساد ہے ایماں زباں پہ سینہ میں حق سے عناد ہے ۱۰ قصوں سے پاک ہونا پاک ہونا کبھی کیا مجال ہے سچ جانو؛ یہ طریق سراسر محال ہے قصوں سے کب نجات ملے ہے گناہ سے ممکن نہیں وصال خدا ایسی راہ سے ۱۲ در عدن قبضے میں اپنے کوئی حکومت نہیں رہی ہم لٹ گئے؛ ہماری وہ عزت نہیں رہی قرار وسکوں دل کو آتا نہیں ہے کسی طور چین پاتا نہیں ہے تہ وصل عالی جناب ہو جائے قرب رحمت مآب حاصل ہو کلام طاهر قبروں میں پڑے عرش نشینوں کی قسم ہے رولے ہوئے مٹی میں نگینوں کی قسم ہے کلام محمود قیصر روم کے محکوم تھے؛ اک دو صوبے تاج انگلشیہ یہ ممکن نہیں؛ سُورج ڈوبے قدم اُس کے ہیں؛ شرک کے سر کے اوپر علم ہر طرف اُس کا لہرا رہا ہے قسمت یونہی بدنام ہے؛ دل خود اسیر دام ہے اب کس جگہ اسلام ہے؛ باقی فقط اک نام ہے قرون اولیٰ کے مسلم کا نام باقی ہے نہ اُس کے کام ہیں باقی؛ نہ اُس کی خُو باقی قرب اُس کا نہیں پاتا؟ نہیں پاتا محمود نفس کو خاک میں جب تک نہ ملائے کوئی قوم کے دل پہ کوئی بات نہیں کرتی اثر تو ہی کھولے گا؛ تو کھولے گا یہ تالے؛ پیارے! یہ قرآن پاک میں بھی ترا نام نور ہے كيف وصال سے تیرا دل پر سرور ہے ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ ۱۷ ۱۸ ۱۹ ۲۲