بیت بازی — Page 68
68 ۱۱۴ ۱۱۵ ۱۱۶ ۱۱۷ ۱۱۸ ۱۱۹ ۱۲۰ ۱۲۱ ۱۲۲ ۱۲۳ ۱۲۴ حساب چرخ کو بے اعتبار کر دیکھو سکو، تو پلٹ دو خرام شام و سحر پلٹ پر سوچو! کہ تم میں سے ہے بعضوں میں وہ کیا عیب وہ جو بھی ہوں؛ انسان کے بچے نہیں لگتے پھر بھی چین نہ آئے؟ گھر کی یاد بہت ترسائے جیسے زخمی مچھلی تڑپے؛ تڑپے اور بل کھائے پچھتائے اور اپنے من پر آپ ہی دوش لگائے بلک بلک کر اک سنیاسن کا یہ دوہا گائے پر بت کا کٹنا یا اس کے جی پر آفت ڈھائے اولوں کا پتھراؤ کرے اس پر؛ اور شرم دلائے پیتیم یاد میں ڈوبا ڈوبا؟ پریم نگر کو جائے ایک ہی دھن گم ہومن میں ؛ ایک ہی یار بسائے پیکر ضبط تھا وہ صبر کا شہزادہ تھا اس کے گرویدہ تھے سب؛ ہر کوئی دلدادہ تھا پر احمدی وہ ہیں کہ لہ جن کے جب دعا کو ہاتھ اُٹھیں تڑپ تڑپ کے یوں کہیں ؛ کہ ہم کو قادیاں ملے پٹھان ملا کو میں اپنے گھر ہی لے جاتے اور اسکا چٹکیوں میں دل مسل کے دیکھتے ہیں کیا فقط ایک دم دلاسہ تھا؟ جانے دل کس بلا کا پیاسا تھا پیار میں جس کے عمر بیت گئی کیا پیاس بجھ نہ سکی کسی کے سے ۱۳۵ پھر بیٹھ کر مزے سے کسی بند کمرے میں اک دوسرے کو حلوے پہ حلوہ کھلائیں گے پھر دیچی اٹھا کے؛ وہ تیزی سے چل پڑا حلوہ کی طرح منہ سے بھی پانی اُبل پڑا پہلے تو میری موجودگی میں تم اُکتائے سے رہتے تھے اب میرے بعد تمہارا دل گھبرائے گا؛ گھبرانے دو ۱۲۶ ۱۲۷ ۱۲۸ ۱۲۹ ۱۳۰ ۱۳۱ ۱۳۲ ۱۳۳ ۱۳۴ پر کلام محمود پڑھ لیا قرآن عبدالحی نے خوش بہت ہیں آج سب چھوٹے بڑے کوئی موقع لڑائی کا جو آجاتا تھا ہر کوئی صاف وہاں آنکھیں چرا جاتا تھا پھائے رکھے گئے واں مرہم کافوری کے دیے جاتے تھے جہاں زخم جگر کے چر کے پر وہ رب؛ جس نے کہ سب کچھ ہی کیا پیدا نہ تو ہے باپ کسی کا نہ کسی کا بیٹا پر جیسے اُس مسیح سے بڑھ کر ہے یہ مسیح یہ سلطنت بھی پہلی سے ہے امن میں سوا پھیلایا تار ملک میں آرام کیلئے تہ سلطنت ہی ہم بہت مہربان ہے پیتے ہیں ایک گھاٹ پہ شیر اور گوسپند اس سلطنت میں یاں تلک امن و امان ہے