بیت بازی — Page 793
793 ۱۳ ۱۴ ۱۶ سب خشک ہوگئے ہیں، جتنے تھے باغ پہلے ہر طرف میں نے دیکھا؛ بستاں بُرا یہی ہے سونے والو! جلد جا گو؛ یہ نہ وقت خواب ہے جو خبر دی وحی حق نے ؛ اس سے دل بیتاب ہے ۱۵ سخت دل کیسے ہوگئے ہیں لوگ سر پہ طاعوں ہے؛ پھر بھی غفلت ہے سب پر یہ اک بلا ہے؟ کہ وحدت نہیں رہی اک پھوٹ پڑ رہی ہے؛ مؤقت نہیں رہی سوسو ہے گند دل میں؛ طہارت نہیں رہی نیکی کے کام کرنے کی رغبت نہیں رہی سب کام تو بنائے؛ لڑکے بھی تجھ سے پائے سب کچھ تری عطا ہے؛ گھر سے تو کچھ نہ لائے سُن میرے پیارے باری! میری دعائیں ساری رحمت سے ان کو رکھنا، میں تیرے منہ کے واری ہے حاصل اسلام تقویٰ خدا کا عشق، کے؛ اور جام، تقویٰ سیاہی چاند کی منہ نے دیکھا دی فسبحان الذى اخزى الاعادي ۱۷ ۱۸ ۱۹ ۲۰ شنو ! ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۶ ۲۷ N ۲۸ ۲۹ ۳۰ ۳۱ سنو! اب وقت توحید اتم ہے ستم اب مائل ملک عدم ہے ہمیں ایمان ہے جان و دل اس راه پر قربان ہے ۳۲ سارے حکموں پر ودر عدن ہے؛ کہ چاہو جو جنت ملے تو پاؤگے ماؤں کے قدموں تلے پار ہم کو لگا دیا تو نے سخت گرداب گمرہی میں سنت تیرے مرسل کی ادا کرتا ہوں؛ پیارے! دلبند کو سینہ سے جدا کرتا ہوں؛ پیارے! سب چھٹتے ہیں؟ ماں باپ، بہن بھائی، بھتیجے یہ باغ، یہ بوٹے، یہ شمر؛ تیرے حوالے سوال مجھ سے نہ کر ؛ اے میرے سمیع و بصیر جواب مانگ نہ؛ اے لاجواب؛ جانے دے فضل خدا ہوگا؟ اُمید رکھو قائم گھبرا نہ کہیں جانا؛ افکار کی شدت سے سینچا بھی کرو اس کو پانی سے دعاؤں کے پھل کھانے ہیں گر تم نے کچھ مخلِ ریاضت کے کلام طاهر سو بسم اللہ جو گوئے دار سے چل کر سُوئے یار آئے سر آنکھوں پر ہر راہ خدا کا مُسافر؛ سوسو بار آئے کر سب یادوں میں بہتر ہے وہ یاد؛ کہ کچھ لمحے جو اُس کے تصور کے قدموں میں گزار آئی