بیت بازی — Page 770
770 جمایا طاعوں نے ایساڈ سرا ؛ ستون اس کا نہ پھر اکھیڑا دیا ہے خلقت کو وہ تریڑا ؛ کہ اپنی جاں سے ہوئی خفا ہے ᎪᏛ ۸۵ جسے کہتی ہے دنیا؛ سنگ پارس مسیحا کا وہ سنگ آستاں ہے ۸۶ جلوۂ جاناں یار لا ۸۸ ۸۹ ۹۰ ۹۱ ۹۲ ۹۳ ہے خواب میں جو ہے؛ وہی بیدار ہے جسے اُس پاک سے رشتہ نہیں ہے زمینی جو اس کی دید میں آتی ہے لذت وہ آسمانی وہ ہے؟ نہیں سب دنیا کی خوشیوں سے سوا ہے جو ہے اس سے الگ؛ حق سے الگ ہے جو ہے اس سے جدا؛ حق سے جُدا ہے جو پوچھ لو کبھی اتنا؟ کہ آرزو کیا ہے رہے نہ دل میں میرے کوئی آرزو باقی جدائی دیکھتا ہوں جب؛ تو مجھ کو موت آتی ہے اُمید وصل؛ لیکن آکے پھر، مجھ کو چلاتی ہے جو ہوں خُدامِ دیں اُن کو خُدا اسے نصرت آتی ہے 'جب آتی ہے؛ تو پھر عالم کو، اک عالم دکھاتی ہے' جو تم سے کوئی خواہش تھی ، تو بس اتنی ہی خواہش تھی تمھارا رنگ چڑھ جاتا؛ تمھاری مجھ میں بُو ہوتی جہاں جاتا ہوں ؛ اُن کا خیال مجھ کو ڈھونڈ لیتا ہے نہ ہوتا پیار گر مجھ سے، تو کیا یوں جُستجو ہوتی ۹۵ جلوہ دکھلا مجھے؛ او چہرہ چھپانے والے! رحم کر مجھ پہ؛ او منہ پھیر کے جانے والے! مجموعة بادہ اُلفت؛ جو کبھی مل جائے وخت رز کو نہ کبھی منہ سے لگائے کوئی ۹۷ جلد آ جلد؛ کہ ہوں لشکر اعداء میں گھرا پڑ رہے ہیں مجھے اب جان کے لالے؛ پیارے! جن کی تائید میں مولی ہو؟ اُنھیں کس کا ڈر کبھی صیاد بھی ڈر سکتے ہیں؛ نخچیروں ۹۴ ۹۶ ۹۸ ۹۹ 1۔1+1 ۱۰۲ ۱۰۳ ۱۰۴ ۱۰۵ پر ہراک حقیقت مخفی تھی منکشف جن پر ہرا جو وہ واقفان راز؛ وہ فرزانے کیا ہوئے جرات زُلف تو دیکھو کہ بروز روشن درپنے قتل؛ سرِ بام ہوئی جاتی ہے پہلے دن سے کہہ چکا ہوں؛ مدعا وہی تو ہے میری طلب وہی تو ہے؛ میری دُعا وہی تو ہے جو غیر پر نگہ نہ ڈالے؛ آشنا وہی تو ہے جو خیر کے سوا نہ دیکھے؛ چشم وا وہی تو ہے تلک تدبیر پنجہ کش نہ ہو تقدیر سے جب آرزو بے فائدہ ہے؛ النتجا بے سود ہے جن باتوں کو سمجھے تھے؛ بنیاد ترقی کی جب غور سے دیکھا؛ تو مٹتے ہوئے سائے تھے جن پر پڑیں فرشتوں کی رشک سے نگاہیں اے میرے محسن ! ایسے انسان مجھ کو دے دے