بیت بازی — Page 750
750 بن جاؤ خدا کے تم؛ آجائے گی خود دنیا جوڑے ہوئے ہاتھوں کو؛ تر عرق ندامت سے بھولے بھالے منہ سے وہ باتیں نرالی آن سے ننھے منے پاؤں سے چلنا وہ اس کا شان سے بڑا اس نے احسان ہم پر کیا ہے طریقہ تلی کا بتلا دیا ہے بشارت دی مسیحا کو خدا نے تمہیں پہنچے گی رحمت کی نشانی باد رحمت سے اڑ کے ہر غم و فکر ایک بھولا سا خواب ہو جائے بڑے پیار سے جس نے پالا مجھے سمجھتی ہے گھر کا اجالا مجھے ۳۳ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ بس اک نظر سے عقدہ دل کھول جائیے دل لیجئے میرا مجھے اپنا بنائیے جو تندرست ہیں؛ انہیں صحت ناز ؛ کہ نازک مزاج ہوں ہے ۴۱ ۴۲ ۴۳ م م ۴۶ ۴۷ ۴۸ ۴۹ بیمار کو کلام طاهر ناز ہے ہے بس نامہ بر اب اتنا تو جی نہ دُکھا؟ کہ آج پہلے ہی دل کی ایک اک دھڑکن اُداس بن باسیوں کی یاد میں کیا ہوں گے گھر اُداس جتنا کہ بن کے باسیوں کا من اُداس ہے ہے بس یاددوست اور نہ کر فرشِ دل پر رقص سُن کتنی تیرے پاؤں کی جھانجن اُداس بھیڑوں کی کھالوں میں لیٹے کتنے گرگ ملے رستے میں مقتولوں کے بھیس میں دیکھو، کیسے کیسے قاتل آئے بگولے بن کے اُڑ جانا روش غول بیاباں کی ہمیں آب بقا پی کر امر ہو جانا آتا ہے بے آسراؤں کیلئے کوئی تو اشکبار ہو پیاس بجھے غریب کی تشنہ لہوں کو گل پڑے باد سموم سے چمن دردوں دُکھوں سے لد گیا آو فقیر سے میرے اشک اُبل اُبل پڑے ہے ہے بن گئی بزمِ شش جہات میکده تجلیات دیر و حرم کو چھوڑ کر بند نکل نکل پڑے ہے مہبطِ انوار قادیاں دیکھو وہی صدا سُنو! جو سدا سے سے اُٹھی بھیگی ہوئی بجھتی ہوئی مٹتی ہوئی آواز اظہارِ تمنا وہ اِشاروں کے سہارے ین کے اپنا ہی لیٹ جاتا ہے روتے روتے غیر کا دُکھ بھی جو سینے سے لگایا ہم نے ۵۲ بہنوں کی اُمنگوں کے دفینوں کی قسم ہے ماؤں کے سلگتے ہوئے سینوں کی قسم ہے ۵۰ ۵۱