بیت بازی — Page 739
739 ۱۳۰ اترا ۱۳۲ ۱۳۳ ۱۳۴ ۱۳۵ ۱۳۶ ۱۳۷ وہ موسی کو نہ تھی جس کے دیدار کی یارائی خدا کوه فاران محمد ۱۳۱ اُٹھو! کہ ساعت آئی؛ اور وقت جارہا ہے پر میسج دیکھو، کب سے جگا رہا ہے اک باغباں کی یاد میں؛ سرو و سمن اُداس اہلِ چمن فسردہ ہیں؛ گلشن اُداس ہے آزردہ گل بہت ہیں؛ کہ کانٹے ہیں شادکام برق تپاں نہال؛ کہ خرمن اُداس ہے آنکھوں سے جو لگی ہے جھڑی، تھم نہیں رہی آکر ٹھہر گیا ہے جو ساون اُداس ہے مجھے اپنا پرستار بنانے والے جوت اک پریت کی ہر دے میں جگانے والے اے محبت کے امر دیپ جلانے والے پیار کرنے کی مجھے ریت سکھانے والے اس طرف بھی ہو کبھی کاشف اسرار نگاہ ہم بھی ہیں ایک تمنا کے چھپانے والے اے میرے درد کو سینے میں بسانے والے اپنی پلکوں پہ میرے اشک سجانے والے آہیں تھیں؟ کہ تھیں ذکر کی گھنگھور گھٹائیں نالے تھے؛ کہ تھے سیل رواں حمدوثنا کے اُکسانے کی خاطر تیری غیرت تیرے بندے کیا تجھ سے دُعا مانگیں ستم گر کو سُنا کے اتنا تو کریں؛ اُن کو بھی جاکر کبھی دیکھیں ایک ایک کو اپنا کہیں؛ سینے سے لگا کے ۱۴۲ آداب محبت کے غلاموں کو سکھا کے کیا چھوڑ دیا کرتے ہیں دیوانہ بنا کے؟ اس بار جب آپ آئیں ؛ تو پھر جا کے تو دیکھیں کر گزروں گا کچھ ؛ اب کے ذرا دیکھیں تو جا کے اُن کی چاہت میرا مدعا بن گیا؛ بالیقیں اُنکا ساتھی خدا بن گیا؛ گئے آسماں کیلئے ۱۳۸ ۱۳۹ ۱۴۰ ۱۴۱ ۱۴۳ ۱۴۴ وہ بنائے میرا پیار اُن کی خاطر دعا بن گیا ۱۳۵ آخر شیر خدا نے بھر کر ؛ ہر ین باسی کو لکا را کوئی مُبارز ہو، تو نکلے؟ ہے، تو کوئی مُباہل آئے اے آڑے وقتوں کے سہارے سبحان اللہ یہ نظارے اک دشمن کو زندہ کر کے مار دیئے ہیں دشمن سارے آنکھوں میں رقم شکووں کی گتھا؛ کیا میرے نام یہی ہیں بتا آہوں میں بجھے نالوں کی صدا جو سندیسے لایا ہے؟ اک ہم ہی نہیں چھنتے چھنتے؟ رفته رفته، آزادی سے؛ جن کے حق معدوم ہوئے اہل وطن محروم ہوئے ۱۴۷ ۱۴۸