بیت بازی — Page 708
708 نہ ہو مگر سب اہلِ وطن یہ بھی سوچ لیں؛ کہ کہیں لباس تقوی میں لیٹی یہ کوئی چال میں تمہیں مچھلی کھلاؤں گا تروتازہ ؛ چلو ہے ابھی تک کھلا فش شاپ کا دروازہ؛ چلو مر کر بھی میرا یہ بھیگی آنکھیں چین اُڑا دیں گی ، تو کیا یہ بجھے چراغ سجاؤ گے مرے مرقد کے سر ہانے دو کلام محمود مولوی صاحب! مُبارک آپ کو اور عبدالحی کے اُستاد کو میاں اسحق کی شادی ہوئی ہے آج اے لوگو! ہر اک مُنہ سے یہی آواز آتی ہے؛ مُبارک ہے میں اگلے شعر پر کرتا ہوں ختم اس نظم کو یارو! اب ان کے واسطے تم بھی خدا سے کچھ مدد مانگو ہو ہو ہو مجھ سا نہ اس جہاں میں کوئی دلفگار ہو جس کا نہ یار ہو نہ کوئی غمگسار موسیٰ سے تو نے طور پر جو کچھ کیا سلوک مجھ سے بھی اب وہی میرے پروردگار ہو معشوق گر نہیں ہوں؟ تو عاشق ہی جان لو ان میں نہیں؛ تو اُن میں ہمارا شمار میرے تو دل میں تھا؟ کہ بڑھ کر نثار ہو جاؤں اُس کے تیر نگہ نے ڈرا دیا مجھ کو میرا قدم تھا کبھی عرش پر نظر آتا بھی ! خاک میں کس نے میلا دیا مجھ کو مور فضل و کرم؛ وارث ایمان و بدی عاشق احمد و محبوب خدا ہو جاؤ ۹ ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ 17 ۱۷ ۱۸ ۱۹ ۲۱ میں ہمارا ہو مددگار ہمارے دَردِ دِل کا راز داں ہو ۲۲ محمود بحال زار کیوں ہو کیا رنج ہے؟ بے قرار کیوں ہو ۲۳ میں باعث رنج کیا بتاؤں کیا کہتے ہو؟ بے قرار کیوں ہو ۲۴ ماضی نے کیا ہے جب پریشاں آئنده کا اعتبار کیوں ہو ۲۵ من و احسان سے اعمال کو کرنا نہ خراب رشته وصل کہیں قطع سر بام نہ ہو میری تو حق میں تمھارے؛ یہ دُعا ہے پیارو! مسلم سوخته دل! یونہی پریشان نہ ہو ۲۶ ۲۷ تجھ اللہ کا سایہ رہے؛ ناکام نہ ہو اللہ کا سایہ ہے؛ ہراسان نہ ہو ۲۸ میں تو بھوکا ہوں فقط دید رخ جاناں کا باغ فردوس نہ ہو؛ روضہ رضوان نہ ہو میرے ہاتھوں سے جُدا یار کا دامان نہ ہو میری آنکھوں سے وہ اوجھل کبھی اک آن نہ ہو ۲۹ سمر