بیت بازی — Page 651
651 บ ۶۲ ۶۳ ۶۴ ۶۶ ۶۷ ۶۸ ۶۹ کس کی تقریروں سے اب دل شاد ہو اپنی تحریروں سے اب پھڑکائے کون کس کے کہنے پر ملے دل کو غذا ہم کو آب زندگی پلوائے کون کون دے دل کو میرے صبر و قرار اشک خونیں آنکھ سے پچھوائے کون کرے گا نعرہ اللہ اکبر کوئے قاتل میں ابھی تک کچھ نہ کچھ باقی ہے دم اس مرغ بسمل میں تک کچھ باقی کلام اللہ سب اس اس کو پڑھایا بنایا گلشن قرآن کا گل چیں کبھی جس کو رشیوں نے منہ سے لگایا وہی جام اب میں پیا چاہتا ہوں کچھ اس میں کشش ہی ایسی ہے؟ ورنہ میں اپنی جان دل ہاتھ نکلا سے جاتا ہے سے؛ کچھ ایسا بھی تو بیزار نہیں کیا اس سے بڑھ کر راحت ہے؛ جان کا لینے والا جاں نکلے تیرے ہاتھوں میں کبھی سے خانہ خمار کا کھلا بین؛ مجھ کو تو کوئی انکار نہیں ہے در جو چیکے بیٹھے ہیں؛ وہ بادہ خوار کیسے ہیں نگاہیں آکے مجھ ہیں کوئی ملتا نہیں دنیا کو رہبر ہی ٹیکی پر کیا ہوا؛ ہاتھ سے اسلام کے نکلی جو زمیں دل پہ وہ اُس کی حکومت ہے؛ کہ جاتی ہی نہیں گفر نے تیرے گرانے کے؟ کئے لاکھ جتن تیری وہ شان ، وہ شوکت ہے؛ کہ جاتی ہی نہیں کبھی نعروں پہ تو قرباں، کبھی گفتار پر قرباں میرے بھولے صنم میں اس تیرے کردار پر گھر باں کھولا ہے رکس تدبیر سے باب لقائے دلربا آئے ہیں رکس انداز سے اوڑھے رداء المرسلیں کیا فکر ہے تجھ کو؛ اگر شیطاں ہے بازی لے گیا دنیا خُدا کی ملک ہے؛ تیری نہیں، میری نہیں کوئی دشمن اسے کرسکتا نہیں مجھ سے جدا ہے تصور ترا دل میں؛ کوئی تصویر نہیں کرو جان قربان راہِ خُدا میں بڑھاؤ قدم تم طریق وفا میں کہنے کو سب تیار ہیں؛ چالاک ہیں ، ہشیار ہیں منہ سے تو سواقرار ہیں؛ پر کام سے بیزار ہیں و حزن لے جاؤں کہاں ابر اشک تو به برساؤں کہاں کون غمخواری کرے تیرے سوا کثرت عصیاں سے دامن تر ہوا بار 2۔اے ۷۲ ۷۳ ۷۵ ۷۶ LL ZA ۸۰