بیت بازی — Page 649
649 کیا وہ خدا جو ہے تیری جاں کا خدا نہیں تیری جاں کا خدا نہیں ایماں کی بُو نہیں؛ ترے ایسے جواب میں کہ جس دم پاگئی مکتی ہر اک جاں ودر عدن تو پھر کیا رہ گیا ایشر کا ساماں کیوں نہ تڑپادے وہ سب دنیا کو اپنے سوز سے درد میں ڈوبی؛ نکلتی ہے صدائے قادیاں کوئی راہ نزدیک تر راہ محبت سے نہیں خوب فرمایا یہ نکته مهدی آخر زماں کشتی دین محمد ؟ جس نے کی تیرے سپرد ہو تیری کشتی کا حافظ؛ وہ خدائے قادیاں کون دکھلائے گا ہم کو آسمانی روشنی؟ چودھویں کا چاند چھپ جائے گا اب زیر زمیں کر نہیں سکتا کوئی انکار؛ عالم ہے گواہ جو کہا تھا اُس نے؛ آخر کر دکھایا بالیقیں کوئی پوچھے رکس گنہ کی اس کو ملتی تھی سزا؟ کس خطا پر تیر برسائے؟ گروہ ظالمیں! کیا التجا کروں؟ کہ مجسم دُعا ہوں میں سر تا به پا سوال ہوں؛ سائل نہیں ہوں میں کاغذی عکس بھی ہیں دل پہ مرے نقش؛ مگر بولتی ہنستی وہ تصویر کہاں سے لاؤں؟ کلام طاهر اے دیس کیا ظلم و ستم جائیں گے؛ اب بھی عوام وہاں ؛ سیلاب اب سے آنے والے بتا ! میں پہچان وطن کس حال میں ہیں یارانِ وطن تھیڑے ماریں؛ بگڑیں بھاگ، اذانیں دیتے ہیں تو سب جاگ اذانیں دیتے ہیں کیا اب بھی سفید مناروں سے؛ دھرتی کے نصیب اجڑتے ہیں؛ نفرت کی منادی ہوتی ہے جب ناگ اذانیں دیتے ہیں کیا قبروں رو پر کر ہی؛ رو کیا یوں بھی کسی نے؛ نینوں کی پیاس بجھا لیں گے رُوٹھے یار منا کر بھاگ جگائے ہیں کلام محمود کچھ صلاحیت جو رکھتے ہو؟ تو حق کو مان لو یاد رکھو دوستو! یہ پھر نہیں آنے کے دن ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۷ ۲۸ ۲۹ ۳۰ ۳۱ ۳۲ ۳۳ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸