بیت بازی — Page 638
638 ۱۱ ۱۲ ۱۳ ۱۵ ۱۸ ۱۹ ونپا ہے تمہیں خالق و مالک کی اماں میں سوئے ہو یہاں، آنکھ کھلے باغ جناں میں تمہیں خدائے جہاں کی آمان میں ہر خیر بخش دے تمہیں دونوں جہان میں سونیا کلام طاهر سنا ہے؛ پیار وہ کرتا ہے غم کے ماروں سے تو ہم بھی درد کے قالب میں ڈھل کے دیکھتے ہیں کلام محمود ۱۴ سلطنت میں بھی تزلزل کے نمایاں تھے نشاں صاف ظاہر تھا؛ کہ ہے چند دنوں کی مہماں سینکڑوں عیب نظر آتے تھے جن کو اس میں وہ بھی اب عاشق قرآن ہوئے جاتے ہیں سخت ڈرتا ہوں میں اظہارِ محبت کرتے پہلے اس شوخ سے میں عہدِ وفائوں تو کہوں ۱۷ سرد مہری سے جہاں کی؛ دل ہے سرد گرمی تاثیر سے گرمائے کون سختیوں سے ہی ؛ جو جاگے گی ، تو جاگے گی یہ قوم اے نبی! ہرگز نہیں یہ تلوے سہلانے کے دن سب دشمنانِ دیں کو؛ اُنھوں نے کیا ذلیل بخشی ہے آپ عز وجل نے؛ وہ عزّ وشاں سر میں ہے جوشِ جنوں ؛ دل میں بھرا ہے تو رو علم میں نہ دیوانوں میں شامل ہوں نہ ہشیاروں میں ہوں ساری دُنیا چھوڑ دے؛ پر میں نہ چھوڑوں گا تجھے دَرد کہتا ہے؛ کہ میں تیرے وفاداروں میں ہوں سُن مدعی! نہ بات بڑھا؛ تا نہ ہو یہ بات گوچہ میں اس کے شور مچانا پڑے ہمیں سارے جہاں سے ظلم کیوں ٹوٹتے ہیں تجھی پہ آج بڑھ گیا خد صبر سے عرصہ امتحان کیوں خیال یار ازلی دل نور وفا سے مہر تاباں۔آمین ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۷ ۲۸ ۲۹ وقف عمر ؛ بَر ہو اتقا میں ہر لحظہ رہے یہ زیر فرماں۔آمین سجه اشک پروئی ہے؛ وہ تُو نے واللہ گبر بھی اب تو ؛ مُسلمان ہوئے جاتے ہیں سوا اس کے؛ کہ اب خود آپ ہی کچھ لطف فرمائیں سجدہ کا اذن دے کے مجھے تاج ور کیا پاؤں ترے کہاں؛ مرا ناچیز سر کہاں سُرورِ رُوح جو چاہے؛ تو دِل کی سُن آواز کہ تارِ دل ہی کو چنگ و رباب کہتے ہیں سر پہ حاوی وہ حماقت ہے؛ کہ جاتی ہی نہیں کفر و بدعت سے، وہ رغبت ہے؛ کہ جاتی ہی نہیں