بیت بازی — Page 628
628 کلام محمود حال دل کہنے نہیں دیتی؛ یہ بے تابی دل آؤ! سینہ سے تمھیں تمھیں اپنے لگائوں تو کہوں حال یوں اُن سے کہوں؛ جس سے وہ بیخود ہو جائیں کوئی پچھتی ہوئی میں بات بنائوں تو کہوں حفیظہ جو میری چھوٹی بہن ہے نہ اب تک وہ ہوئی تھی اس میں رنگیں حملہ کرتا ہے اگر دشمن؛ تو کرنے دو اُسے وہ ہے اغیاروں میں میں اُس یار کے یاروں میں ہوں حلقہ حُسن میں ملائکہ کے کھیلے ہردم رہے دُور اس سے شیطاں۔آمین ہے داد طلب عشق تماشائی ہے لاکھ پردے میں وہ عریان ہوئے جاتے ہیں حیران ہوں کہ دن کسے کہتے ہیں، دوستو! سُورج ہی جب طلوع نہ ہو؛ تو سحر کہاں حقارت کی نگاہیں؛ ہیں سکراتی محبت کی نگاہیں پھیلتی ہیں 'خ' سے 'ن' 'خ' سے شروع ہو کر 'ان' پرختم ہونے والے اشعار ) تعداد كُل اشعار 27 4 6 2 15 در ثمين در عدن كلام طاهر کلام محمود i ¡¡ iii := iv در ثمین خدا کے جو ہیں؛ وہ یہی کرتے ہیں وہ لعنت سے لوگوں کی؛ کب ڈرتے ہیں Y