بیت بازی

by Other Authors

Page 619 of 871

بیت بازی — Page 619

619 ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۷ مجھ سے تھی ہم کو تسلی ہر گھڑی تیرے مرنے پر ہمیں بہلائے کون تڑپ ہے دین کی مجھ کو؟ اُسے دنیا کی لالچ ہے مخالف پر ہمیشہ میں تبھی منصور رہتا ہوں تیرے آگے ہاتھ پھیلاؤں نہ گر کس کے آگے؟ اور پھیلاؤں کہاں تیری زمیں ہے رہن کیوں ؛ ہاتھ میں گہر سخت کے تیری تجارتوں میں ہے؛ صبح ومسا زبان کیوں تجھ کو اگر خبر نہیں، اس کے سبب کی؟ مجھ سے سُن ! تجھ کو بتاؤں میں ؟ کہ برگشتہ ہوا جہان کیوں توفیق ملے اُسے عمل کی کامل ہو ہر اک جہت سے ایماں۔آمین تیری تعلیم میں؛ کیا جادو بھرا ہے، مرزا ! جس سے حیوان بھی؛ انسان ہوئے جاتے ہیں ۲۹ تو وہ قادر ہے؛ کہ تیرا کوئی ہمسر ہی نہیں میں وہ بے بس ہوں کہ بے در بھی ہوں بے پر ہی نہیں تیری نگاہ لطف اُتارے گی مجھ کو پار کٹتے ہیں مجھ سے عشق کے یہ بحر و بر کہاں تھے طَرَب سے درخت بھی رقصاں گویا قسمت اپنی تھے نازاں تجھے اس جہان کے آئنہ میں جمال یار کی جھنجھ مجھے سو جہان دکھائی دیتا ہے؛ پشم آئنہ ساز میں ۲۸ ۳۲ ۳۳ ۳۴ ۳۵ ترے جام کو مِرے خُون سے ہی؛ میلا ہے رنگ تیری محبت اضطراب، یہ زیر و بم؛ ہے دلفریب مرے سوز تیرے ساز میں ہے میرے دل میں؛ زبان میری، ترے تصرف میں؛ میری محبت ہے تیرے دل میں بات تیری، میرے ذہن میں تو آئے تو ہم تجھ کو سر آنکھوں پر بٹھائیں جاں نذر میں دیں تجھ کو؛ تجھے دل میں بسائیں ہندوستان میں روتا ہے؛ ہے میرا دل بھی زار؛ میں پاکستان میں گڑھتا ہوں فقط تیرا ہی حال زار نہیں تم انسانوں کے چیلے ہو۔میں اس کے در کا ریزہ ہوں میں عالم ہوں میں فاضل ہوں؟ مرے دستار نہیں تو اس کے پیارے ہاتھوں کو اپنی گردن کا طوق بنا کیا تو نے گلے میں ڈالا ہے ڈوالتا رہے یہ زنا نہیں تم نے سو بار مجھے نیچا دیکھانا چاہا پر میرے دل کی مروت ہے؛ کہ جاتی ہی نہیں ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹