بیت بازی

by Other Authors

Page 618 of 871

بیت بازی — Page 618

م 618 تیرے ہاتھوں سے میرے پیارے ! اگر کچھ ہو؛ تو ہو ورنہ دیں میت ہے؛ اور یہ دن ہیں دفنانے کے دن ! تم تو ہو آرام میں؛ پر اپنا قصہ کیا کہیں پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے سخت گھبرانے کے دن تو نے سکھایا فرقاں؛ جو ہے مدارِ ایماں جس سے ملے ہے عرفاں ؛ اور دُور ہووے شیطاں تھوڑے نہیں نشاں؛ جو دکھائے گئے تمہیں کیا پاک راز تھے؛ جو بتائے گئے تمہیں Λ ۱۱ ۱۲ ۱۳ تو مدینہ ہے ودر عدن اکمل کا تیرا سینہ ہے مهبط قرآن تیرے ملنے سے ملا ہم کو وہ مقصود حیات تجھ کو پاکر؛ ہم نے پایا کام دل آرامِ جاں تشنہ روحیں ہوگئیں سیراب؛ تیرے فیض سے علم و عرفان خداوندی کے بحر بیکراں ا تو وہ آئینہ ہے، جس نے مُنہ دیکھایا یار کا جسم خاکی کو عطا کی روح؛ اے جانِ جہاں تا قیامت جو رہے تازہ تری تعلیم ہے تو ہے روحانی مریضوں کا طبیب جاوداں تیر بر معصوم می بارد خبیث بد گهر آسمان را حق بود گر سنگ بارد بر زمین کلام طاهر تو تو مالک ہے، خداوند ہے؛ خالق ہے میرا مجھ سے ناراض نہ ہونا؛ میں ترا چاکر ہوں ۱۴ تب آیا اک منادی؛ اور ہر طرف صدا دی آؤ! کہ ان کی زد سے اسلام کو بچائیں تیرا سر ہے تاجدار حسن ؛ خاک پا ہے سبزہ زار حسن ہر حسین کوہسار سے؛ پھوٹتی ہے آبشار حسن کلام محمود ۱۵ ۱۶ ۱۷ ۱۸ ۱۹ ۲۱ تاریکی و جہالت و ظلمت کدھر گئی دنیا سے آج ان کا ہوا کیوں ہے گم نشاں تڑپ رہی ہے میری روح جسم خاکی میں تیرے سوا مجھے اک دم بھی اب قرار نہیں تو تو ہنستا ہے؛ مگر روتا ہوں میں اس فکر میں وہ ہیں اس دنیا سے اک دنیا کے اُٹھ جانے کے دن تسکین ده میرے لیے بس اک وجود تھا تم جانتے ہو؟ اس سے بھی آب تو جدا ہوں میں تو تیرے یوسف کا مجھے خوب پتا ہے؛ اے دل! کوئی دن اور کنوئیں تجھ کو جھنکالوں تو کہوں تو تو واں بخت میں خوش اور شاد ہے ان غریبوں کی خبر کو آئے کون