بیت بازی — Page 598
598 در ثمین میں کہتا ہوں اک بات؛ اے نیک نام! ذرا غور ے اُس کو سُنو تمام میں کیونکر گن سکوں تیرے یہ انعام کہاں ممکن تیرے ممکن؟ تیرے فضلوں کا ارقام در عدن ود میرے آقا! میرے نبی کریم بانی پاک باز دین قویم مدح تیری ہے؟ زندگی تیری تیری تعریف ہے تری تعلیم ه مدد کن هادیا گم کرده راهم گنهگارم غفورا! عـفـو خـواهـم کلام طاهر ۸ و ۱۰ 11 میری ہر ایک راہ؛ تیری سمت ہے رواں تیرے سوا کسی طرف اُٹھتا نہیں قدم کلام محمود میدانِ عشق میں ہیں رہے پیش پیش وہ محمود بن گئے وہ؛ بنے جب ایاز ہم میں وہ کامل ہوں؛ کہ سُن لے مرے اشعار کو گر پھینک دے جام کو ؛ اور چومے مرے پاؤں کو جم میں کسی بحر میں دکھلاؤں جو اپنی تیزی عرفی و ذوق کے بھی دست و زُباں ہوویں قلم مٹ گیا تیری عداوت کے سبب سے؛ پیارے! کوئی لیتا نہیں اب دہر میں نامِ میں نام آتھم مال کیا چیز ہے؛ اور جاں کی حقیقت کیا ہے آبرو تجھ فدا کرنے کو تیار ہیں ہم ۱۲ ۱۴ ۱۵ منا کے نقش و نگار دیں کو؛ جو پھر کبھی بھی : مٹ سکے گا؛ یونہی ہے مٹا کے کفر و خوش دشمن حقیقت اب ایسا نقشہ بنائیں گے ہم ضلال و بدعت ؛ خُدا نے چاہا تو کوئی دن میں؟ کریں گے آثار دیں کو تازہ ظفر کے پرچم اُڑائیں گے ہم بغیر ابر کے صہبا و جام مراحبیب تو بستا ہے میری آنکھوں میں مجھے حسینوں کے ڈر اور بام سے کیا کام ہے فلسفہ منطق کلام سے کیا کام مجھے پلانی ہو ساقی؛ تو ابر رحمت بھیج مجھے خُدا نے سکھایا ہے؛ علم ربانی مجھے کیا کام