بیت بازی — Page 521
521 บ ۶۲ ۶۳ ہوں غلامی میں؛ مگر ہے عشق کا دعویٰ مجھے چاکروں میں ہوں ، مگر ہے خواہش مقرب وجوار ہو کے بے پردہ؛ وہ میرے سامنے آئے نکل میرے دل سے دُور کر دے ہجر وفرقت کا غبار ہر رگ و ریشہ میں ہو اس کی محبت جاگزیں ہر کہیں آئے نظر نقشہ وہی منصوروار " ہائے! وہ شخص کہ جو کام بھی کرنا چاہے دل میں رہ جائے وہی اُس کے تمنا ہوکر ہمیشہ نفس امارہ کی باگیں تھام کر رکھیو گرا دے گا یہ سرگش ورنہ تم کو سیخ پا ہوکر ہے خواہش میری الفت کی ؛ تو اپنی نگا ہیں اونچی کر تدبیر کے جالوں میں مت پھنس کر قبضہ جا کے مقدر پر نگاہیں شناور سمائے علم کے ہوں میر انور ۶۴ ۶۶ ۶۷ ۶۸ ۶۹ 2۔اے ۷۲ ۷۳ ۷۴ ۷۵ ہوں کر معرفت کے ہاں ! اے مغیث ! سُن لے میری التجا کو آج کر رحم اس وُجودِ محبت شعار پر ہاں! اُس شہید علم کی تربت پہ کر نزول خوشیوں کا باب کھول؛ غموں کی شکار پر ہے محبت ایک پاکیزہ امانت ؛ اے عزیز! عشق کی عزت ہے واجب ؛ عشق سے کھیلا نہ کر ہے عمل میں کامیابی؛ موت میں ہے زندگی جا لیٹ جا لہر سے؛ دریا کی کچھ پروا نہ کر ہے لذت سماع بھی لطف نگاہ بھی کیوں جا رہے ہو صُحبت جانانہ چھوڑ کر ہے گنج عرش ہاتھ میں؛ قرآن طاق پر مینا کے ہو رہے ہیں؛ وہ میخانہ چھوڑ کر ہیں تیرے بندے مگر ہاتھوں کی طاقت سلب ہے کفر کا خیمہ لگا ہے، قریہ قریہ، گھر بہ گھر ہے بھاگتی دنیا مجھے دیوانہ سمجھ کر شمع قریب آرہی پروانہ سمجھ کر