بیت بازی — Page 512
512 کلام محمود مہربانی کی تو اس پہ رکھ نظر کر عنایت اس پر مجھے سمجھتے ہو کیا فکی تم ؛ کہ نت نئے بوجھ لا دتے ہو و سحر بس اب تو جانے دو، تھک گیا ہوں؛ شام غم مصیبت ملایا خاک میں سب دشمنوں کو کیا ہر مرحلہ میں ہم اُٹھا اُٹھا کر منصور ۵۳ ۵۴ ۵۵ ۵۶ ۵۸ ۶۰ บ ملے ہم کو وہ اُستاد و خلیفه کہ سارے کہہ اُٹھے نور علی نور مرغ دل میرا پھنسا ہے کس کے دام عشق میں کس کے نقش پا کے پیچھے اُڑ گیا میرا غبار میں جو ہنستا ہوں؛ تو ہے میری ہنسی بھی برق وش جس کے پیچھے پھر مجھے پڑتا ہے رونا بار بار ۵۹ مات کرتا ہے مرادن بھی اندھیری رات کو میری شب کو دیکھ کر ؛ زُلفِ حسیناں شرمسار میری ساری آرزوئیں دل ہی دل میں مر گئیں میرا سینہ کیا ہے؟ لاکھوں حسرتوں کا ہے مزار منبع ہر خوبی و ہر حسن و ہر نیکی ہے وہ میں ہوں اپنے نفس کے ہاتھوں سے مغلوب اور خوار مدعا تو ہے وہی؛ جو رہے پورا ہوکر التجا ہے وہی جو کوئے پذیرا ہو کر مد عا ان کا تو لڑنے سے ہے؛ بس تاج وسریر ہاتھ میں یاروں کے رہ جائے گی؛ خالی کفگیر میری حالت پہ جاناں رحم آئے گا نہ کیا تم کو اکیلا چھوڑ دو گے مجھ کو کیا تم باوفا ہوکر میرا دل ہو گیا خوشیوں سے معمور ہوئے ہیں آج سب رنج و الم دور ۶۲ ۶۳ ۶۴ ۶۶ 72 ۶۹ 4۔۷۲ میرا ناصر میرا فرزند اکبر مقصود میلا سے تاج و افسر جس کو حق ہے مجھ پر کہ ہوں عزیزوں کے حلقہ میں مثل غیر اس بے گس و نحیف و غریب الدیار پر جس کا علم و سگھی کا حصول تھا رکھتی تھی جو بگه بگیر لطف یار پر میری طرف سے اُس کو جزا ہائے نیک دے کر رحم اے رحیم! دل سوگوار پر منجدھار میں ہے کشتی ڈبوئی خرد نے آہ! کیا پایا میں نے خصلت رندانہ چھوڑ کر ملک و پلاد سونپ دیے دُشمنوں کو سب بیٹھے ہو گھر میں؛ خصلتِ مردانہ چھوڑ کر مال سے ہے جیب خالی؛ علم سے خالی ہے سر یاد خالق سے ہے غفلت؛ رہتی ہے فکر دگر