بیت بازی — Page 510
510 11 ۱۲ ۱۳ ۱۵ ۱۶ ۱۷ ۱۸ ۱۹ ۲۱ میرے جیسے کو جہاں میں تو نے روشن کر دیا کون جانے اے میرے مالک ! ترے بھیدوں کی سار میرے سقم و عیب سے اب کیجئے قطع نظر تا نہ خوش ہو دشمن دیں؛ جس پہ ہے لعنت کی مار مجھ کو پردے میں نظر آتا ہے اک میرا معین تیغ کو کھینچے ہوئے اسپر جو کرتا ہے وہ وار ۱۳ مُفتری کہتے ہوئے اُن کو حیا آتی نہیں کیسے عالم ہیں؛ کہ اس عالم سے ہیں یہ برکنار مُردہ ہو جاتے ہیں اس کا کچھ نہیں دیتے جواب ذرد ہو جاتا ہے منہ؛ جیسے کوئی ہو سوگوار میری نسبت جو کہیں کہیں سے ؛ وہ سب پر آتا ہے چھوڑ دیں گے کیا وہ سب کو کفر کر کے اختیار ؛ مجھے کو کافر کہہ کے؛ اپنے کفر پر کرتے ہیں مُہر یہ تو ہے سب شکل ان کی ؛ ہم تو ہیں آئینہ دار میں تو آیا اس جہاں میں ابنِ مریم کی طرح میں نہیں مامور از بهر جهاد و کارزار موت سے گر خود ہو بے ڈر کچھ کرو بچوں پر رحم آمن کی رہ پر چلو؛ بَن کو کرو مت اختیار میں تو تیرے حکم سے آیا؛ مگر افسوس ہے چل رہی ہے وہ ہوا؛ جو رخنہ انداز بہار منبروں پر اُن کے سارا گالیوں کا وعظ ہے مجلسوں میں ان کی ہردم سب وغیبت کاروبار ملک سے مجھ کو نہیں مطلب ؛ نہ جنگوں سے ہے کام کام میرا ہے دلوں کو فتح کرنا نے دیار ۲۳ ملک روحانی کی شاہی کی نہیں کوئی نظیر گو بہت دنیا میں گزرے ہیں امیر و تاجدار مغز فرقان مطہر ؛ کیا یہی زهد خشک کیا یہی چوہا ہے نکلا؛ کھود کر یہ کوہسار مُنہ کو اپنے کیوں بگاڑا نااُمیدوں کی طرح فیض کے در کھل رہے ہیں اپنے دامن کو پیار مگر انسان کو مٹا دیتا ہے انسان دگر پر خدا کا کام کب بگڑے کسی سے زینہار مفتری ہوتا ہے آخر اس جہاں میں روسیہ جلد تر ہوتا ہے برہم افتراء کا کاروبار مکر کے بل چل رہی ہے ان کی گاڑی روز وشب نفس وشیطاں نے اٹھایا ہے انھیں جیسے کہار مجھ کو کافر کہتے ہیں، میں بھی انہیں مومن کہوں گر نہ ہو پر ہیز کہ گر نہ ہو پر ہیز کرنا جھوٹ سے؛ دیں کا شعار مجھ پر اے واعظ ! نظر کی یار نے ، تجھ پر نہ کی حیف اس ایماں پہ؛ جس سے کفر بہتر لاکھ بار مجھ کو خود اس نے دیا ہے چشمہ توحید پاک تا لگادے ازسرنو باغ دیں میں لالہ زار میں اگر کاذب ہوں؛ کذابوں کی دیکھوں گا سزا پر اگر صادق ہوں؛ پھر کیا غذر ہے روزشمار ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۷ ۲۸ ۲۹ ۳۰ ۳۱ ۳۲ ہے