بیت بازی

by Other Authors

Page 38 of 871

بیت بازی — Page 38

38 38 ا الله میری دعا ہے ہو ۱۲ آنکھوں میں حیا چمک رہی ۷۱۳ ۷۱۴ آمین کہیں میری ان کو بھی کرے وہ اس یہ آساں۔آمین منه حکمت و علم سے دُرافشاں۔آمین دعا بیٹھے ہیں تمام لوگ جو یاں۔آمین پر اس کی شب کا نہ پوچھ تو ؛ جس کا دن بھی تاریک ورنہ لوگ سمجھیں گے تیرا ۱۵ المدو! واے ۷۲۰ بندہ بھی و تار رہتا ہے خوار رہتا ہے رہتا ہے ایک مٹھی مخبار اء اس کو بھی پھینک دیجئے گا کہیں ے آئے بھی؛ اور آ کے چلے بھی گئے وہ آہ! ايام سعد اُن کے بسرعت گزر گئے ۱۸ آمد تھی اُن کی؛ یا کہ خدا کا نزول تھا صدیوں کا کام ؛ تھوڑے سے عرصہ میں کر گئے اپنی حالت پہ یونہی خرم و شادان نہ ہو سکوں؛ پیش رو آمد طوفان نہ ہو اپنے اعمال پہ خرا؛ ارے نادان نہ ہو تو بھلا چیز ہے کیا! اُس کا جو احسان نہ ہو ابن آدم ہے، نہ کچھ اور؛ تجھے خیال رہے حد نسیان سے بڑھ کر کہیں عصیان نہ ہو اپنے ہاتھوں سے ہی خود اپنی عمارت نہ رگرا مخرب دین نہ بن؛ دشمن ایمان نہ ہو اپنے اوقات کو؛ اے نفس حریص و طامع شکر منت میں لگا؛ طالب احسان نہ ہو ۷۲۴ ؛ آگ ہوگی ؟ تو دُھواں اُس سے اُٹھے گا محمود غیر ممکن ہے کہ؛ ہو عشق، ہے کہ؛ ہو عشق، پہ اعلان نہ ہو آب نکلوں ، تو کس طرح ان آفات سے نکلوں یہ ایسا سمندر ہے؟ نہیں جس کا کنارہ ۷۲۱ ۷۲۲ ۷۲۳ ۷۲۵ ۷۲۶ ۷۲۷ ۷۲۹ ۷۳۰ ۷۳۱ ۷۳۲ اے صید مصائب نگہ یار کے کشتے جس نے تجھے مارا ہے؛ وہی ہے تیرا چارہ اے شمع رو! بتا تیرے پروانے کیا ہوئے جل جل کے مر رہے تھے ؛ جو دیوانے کیا ہوئے ابواب بغض و غدر و شقاوت ہیں کھل رہے عشق و وفا و مہر کے افسانے کیا ہوئے امید وصل؛ حسرت و غم سے بدل گئی نقش قدوم یار؛ خدا جانے کیا ہوئے اک طرف عقل کے شیطاں ہے؛ تو اک جانب نفس ایک دانا کو ہمیں گھیرے ہوئے؛ دیوانے دو آنکھیں پرنم ہیں ، جگر ٹکڑے ہے، سینہ ہے چاک یاد میں تیری؛ تڑپتا دل مضطر ہی نہیں آنکھوں سے بہہ گیا؛ مرا نورِ نظر کہاں از بس؛ که انفعال سے دل آب آب تھا