بیت بازی — Page 37
37 ۶۸۹ ۶۹۰ ۶۹۲ ۶۹۳ ۶۹۶ اس کے شعلوں کی زد میں جو آ جائے دیکھتے دیکھتے ہو جل کے زماد انانیت پرے ہٹ جا! مجھے مت منہ دکھا اپنا میں اپنے حال سے واقف ہوں تو کس کو بناتی ہے ۶۹۱ امن کے ساتھ رہو؛ فتنوں میں حصہ مت لو باعث فکر و پریشانی حکام نہ ہو اپنی اس عمر کو اک نعمت عظمیٰ سمجھو بعد میں تاکہ تمھیں شکوہ ایام نہ ہو اپنے الہام پہ نازاں نہ ہو؛ اے طفلِ سُلوک! تیرے بہکانے کو آیا کہیں شیطان نہ ہو ۹۴ اس میں جو بھول گیا؛ دونوں جہانوں سے گیا کوچه عشق میں؛ داخل کوئی انجان نہ ہو ۹۵ اے عدو! مکر ترے کیوں نہ ضرر پہنچائیں ہاں! اگر سر میرے سایہ رحمان نہ ہو آریوں کو میری جانب سے سُنائے کوئی ہو جو ہمت ؛ تو میرے سامنے آئے کوئی ۶۹۷ آسمانی جو شہادت ہو؛ اُسے پیش کرے یونہی یونہی بے ہودہ نہ بے پر کی اُڑائے کوئی ایسی ویسی جو کوئی بات نہ ہو ویدوں میں ان کو اس طرح سے کیوں گھر میں چھپائے کوئی اُس کا در چھوڑ کے کیوں جاؤں؛ کہاں جاؤں میں اور دنیا میں کوئی اس کی سی سرکار بھی ہو اگر تم دامنِ رحمت میں اپنے مجھ کو لے لیتے تمھارا کچھ نہ جاتا؛ لیک میری آبرو ہوتی اپنے کوچے میں تو گنتے بھی ہیں بن جاتے شیر بات تب ہے؛ کہ میرے سامنے آئے کوئی اُس کی ہر بجنبشِ لب کرتی ہے مُردے زندہ حشر دکھلائے گا اب کیا ہمیں برپا ہو کر ایسے بیمار کا پھر اور ٹھکانا معلوم دے سکے تم نہ شیفا جس کو؛ مسیحا ہو کر ۷۰۴ اے جو! اب بھستجو اُس کی ہے امید محال لے چکا ہے دل مرا تو ؛ دلر بائے قادیاں آه! کیسی خوش گھڑی ہوگی کہ بائیلِ مرام باندھیں گے رختِ سفر کو ہم؛ برائے قادیاں ۷۰۶ اس کے جلوے کی بتاؤں تمہیں کیا کیفیت مجھ سے دیکھا نہ گیا؛ تم کو دکھایا نہ گیا ۶۹۸ ۶۹۹ 4۔۔2+1 ۷۰۲ ۷۰۳ ۷۰۵ 4۔2 2۔1 ۷۰۹ اصل پیغام! یہ معلوم ہوا ہے بعض احباب وفا کیش کی تحریروں آزمائش کیلئے تم نے پنا ہے مجھ کو پشت پر ٹوٹ پڑے ہو مری؛ شمشیروں سے ایک تنکے سے بھی بدتر تھی؛ حقیقت میری فضل نے اُس کے بنایا مجھے شہتیروں سے الفاظ تو پڑھ لیے ہیں سارے اب باقی ہے؛ مطلب اور عرفاں