بیت بازی — Page 36
36 ۶۶۸ ۶۶۹ ۶۷۰ اُس کے حکموں کو نہ ٹالو؛ ایک دم کے واسطے مال و دولت، جان و دل ؛ ہر شے کرو اُس پر نثار ابتداء میں لوگ گو پاگل پکاریں گے تمھیں اور ہوں گے درپے ایزاد ہی دیوانہ وار اُس کی اُلفت میں کبھی نقصاں اُٹھاؤ گے نہ تم اُس کی اُلفت میں کبھی ہو گے نہ تم رُسوا وخوار امتحاں میں پورے اُترے گر ؛ تو پھر انعام میں جامِ وصل یار پینے کو ملیں گے بار بار ۶۷۱ الغرض یہ عشق مولی بھی عجب اک چیز ہے جو گداگر کو بنا دیتا ہے دم میں شہریار اپنے پیچھے چھوڑے جاتے ہیں یہ اک حصن حصیں بھاگے جاتے ہیں یہ احمق ؛ کیوں بھلا سوئے حُباب امر بالمعروف کا بیڑا اُٹھاتے ہیں جو لوگ اُن کو دینا چاہتے ہیں؛ ہر طرح کا یہ عذاب ابن ابراهیم آئے تھے جہاں باتشنہ لب کر دیا خشکی کو تو نے اُن کی خاطر آب آب اک رُخ روشن سدا رہتا ہے آنکھوں کے تلے ہیں نظر آتے مجھے تاریک ماه و آفتاب اس قدر بھی بے رخی اچھی نہیں عشاق سے ہاں! کبھی تو اپنا چہرہ کیجئے گا بے نقاب ۶۷۷ اے چشمہ علم وھد می! اے صاحب فہم و ذکا ! اے نیک دل ! اے باصفا ! اے پاک طینت ، باحیا! ۲۷۸ اے مقتداء اے پیشوا! اے میرزا، اے رہنما! اے مجتبی ، اے مصطفے ! اے نائب رَبُّ الوَرى! ۶۷۳ ۶۷۴ ۶۷۵ ۶۷۶ ۶۷۹ ۶۸۰ ΥΛΙ آنکھوں میں رہی نہ جب بصارت اسلام گھرا ہے ہو دیدار رُخ نگار کیوں دشمنوں میں مسلم کا نہ دل فگار کیوں ہو اہلِ دنیا کی نظر میں ؛ خواب غفلت میں ہوں میں اہلِ دل پر جانتے ہیں یہ کہ بیداروں میں ہوں ۲۸۲ اُسی کے دم سے فقط ہے بقائے موجودات خدا نے رکھی ہے وہ اتصال میں برکت ޏ ایمان و ہوگئے برباد اور کافر ہیں خندہ زن دلشاد ۶۸۳ آه دنیا کیا پڑی افتاد دین ۶۸۴ آج مسلم ہیں رنج و غم ۲۸۵ اس ارادے گھر نکلے ہیں دمین اسلام کو کریں بر باد ΥΛΥ اے خدا! اے شہ مکین و مکاں ! قادر و کارساز و رَبِّ عباد ۶۸۷ ان دکھوں سے نجات پائیں گے کب ہوں گے کب ان غموں سے ہم آزاد ۲۸۸ احمدی اُٹھ! کہ وقت خدمت ہے یاد کرتا تجھ کو رب عباد