بیت بازی — Page 483
483 ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۷ ۲۸ ۲۹ ۳۰ ۳۱ ۳۲ E } } } ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۰ ام ۴۲ ۴۳ جاودانی زندگی ہے موت کے اندر نہاں گلشن دلبر کی رہ ہے وادئی غربت کے خار جس نے نفس دوں کو ہمت کر کے زیر پا کیا چیز کیا ہیں اس کے آگے؛ رستم و اسفندیار جبکہ کہتے ہیں؟ کہ کاذب پھولتے پھلتے نہیں پھر مجھے کہتے ہیں کاذب دیکھ کر میرے ثمار جاہلوں میں اس قدر کیوں بدگمانی بڑھ گئی کچھ بُرے آئے ہیں دن؛ یا پڑگئی لعنت کی مار جبکہ ہے امکان کذب و سج روی اخبار میں پھر حماقت ہے؛ کہ رکھیں سب انہی پر انحصار جب کہ ہم نے نور حق دیکھا ہے اپنی آنکھ سے جبکہ خود وحی خدا نے دی خبر یہ بار بار جھانکتے تھے نور کو وہ روزن دیوار سے لیک جب دَر کھل گئے؛ پھر ہو گئے شتر شعار جن میں آیا ہے مسیح وقت؛ وہ منکر ہوئے مرگئے تھے اس تمنا میں؛ خواص ہر دیار جنگ روحانی ہے اب اس خادم و شیطان کا دل گھٹا جاتا ہے یارب! سخت ہے یہ کارزار جنگ یہ بڑھ کر ہے جنگ روس اور جاپان سے میں غریب؛ اور ہے مقابل پر حریف نامدار جس قدر نقد تعارف تھا؛ وہ کھو بیٹھے تمام آہ! یہ کیا دل میں گذرا ؛ ہوں میں اس سے دلفگار جس طرف دیکھیں: وہیں اک دہریت کا جوش ہے دیں سے ٹھٹھا؛ اور نمازوں روزوں سے رکھتے ہیں عار جاہ و دولت سے یہ زہریلی ہوا پیدا ہوئی موجب نخوت ہوئی رفعت کہ تھی اک زہر مار در عدن ناصر جاتے ہو مری جان! خدا حافظ و ناصر اللہ نگہبان؛ خدا حافظ و جو تیرے عاشق صادق ہوں ؛ فخرِ آلِ احمد ہوں الہی ! نسل سے میری تو وہ انسان پیدا کر کلام طاهر جن کو نور کر گیا عطا؛ وہ خدا کا بے ریا بشر وہ فقیر، جس کی آنکھ میں، نور مصطفی تھا جلوہ گر جیلوں میں رضائے باری کے جو گہنے پہنے بیٹھے ہیں اُن راہِ خدا کے اسیروں کی: اُن معصوموں کی باتیں کر جاتی ہو میری جان! خدا حافظ و ناصر حافظ رہے سلطان؛ خدا حافظ و ناصر جاتی ہو میری جان! خدا حافظ و ناصر مولا ہو نگہبان؛ خدا حافظ و ناصر جلد بازار سے لے آتا تھا تازہ مچھلی گرم بھاپ اُٹھتی تھی مچھلی سے نہایت مزیدار