بیت بازی — Page 482
482 11 ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ جس کو چاہے؛ تخت شاہی پر بٹھا دیتا ہے تو جس کو چاہے؛ تخت سے نیچے گر اوے، کر کے خوار جسم کو مل مل کے دھونا؛ یہ تو کچھ مشکل نہیں دل کو جو دھوئے؟ وہی ہے پاک نزد کردگار جانتا تھا کون، کیا عزت تھی؛ پبلک میں مجھے کس جماعت کی تھی مجھ سے کچھ ارادت یا پیار جو برباد جو پوچھا کسی نے چلے ہو کدھر غرض کیا ہے؟ جس سے کیا یہ سفر ہونا کرے اختیار خدا کیلئے ہے وہی بختیار جب نظر پڑتی ہے اس چولہ کے ہر ہر لفظ پر سامنے آنکھوں کے آجاتا ہے وہ فرخ گہر جسے اس کے مت کی نہ ہووے خبر دیکھے اسی چولہ کو اک نظر وہ جس کا ہے نام قادر اکبر اس کی ہستی سے دی ہے پختہ خبر جگر کا ٹکڑا مبارک احمد؛ جو پاک شکل اور پاک خو تھا وہ آج ہم سے جدا ہوا ہے ہمارے دل کو حزیں بنا کر جس کو تلاش ہے؛ کہ ملے اس کو کردگار اس کیلئے حرام؛ جو قصوں پہ ہو شار جس کو ہم نے قطرہ صافی تھا سمجھا اور تھی غور سے دیکھا؛ تو کیڑے اس میں بھی پائے ہزار جس کے دعوی کی سراسر افترا پر ہے پنا اس کی یہ تائید ہو؛ پھر جھوٹ سچ میں کیا نکھار جہل کی تاریکیاں؛ اور سوء ظن کی تند باد جب اکٹھے ہوں، تو پھر ایماں اُڑے، جیسے غبار جی چرانا راستی سے؛ کیا یہ دیں کا کام ہے کیا یہی ہے زھد وتقویٰ ؛ کیا یہی راه خیار جان و دل سے ہم شارِ ملتِ اسلام ہیں لیک دیں وہ رہ نہیں؛ جس پر چلیں اہلِ نقار جن پہ ہے تیری عنایت ؛ وہ بدی سے دُور ہیں رہ میں حق کی قوتیں ان کی چلیں بن کر قطار جس کو تیری دُھن لگی؛ آخر وہ تجھے کو جاملا جس کو بے چینی ہے یہ؟ وہ پا گیا آخر قرار 19 جیف دنیا پر یکسر گر گئے دنیا کے لوگ زندگی کیا خاک ان کی؛ جو کہ ہیں مردارخوار آہ! رحلت کر گئے وہ سب جو تھے تقویٰ شعار جس طرف دیکھو، یہی دنیا ہی مقصد ہوگئی ہر طرف اس کیلئے رغبت دلائیں بار بار جس طرح تو دُور ہے لوگوں سے میں بھی دُور ہوں ہے نہیں کوئی بھی جو ہو میرے دل کا رازدار جن کو ہے انکار اس سے سخت ناداں ہیں وہ لوگ آدمی کیونکر کہیں؛ جب ان میں ہے حمق حمار ؛ ۱۶ ۱۷ ۱۸ ۱۹ ۲۱ ۲۲ ۲۳ جس کو دیکھو؛ آجکل وہ شوخیوں میں طاق ہے۔