بیت بازی

by Other Authors

Page 35 of 871

بیت بازی — Page 35

35 ۶۴۵ ۶۴۶ اف گناہوں کا بڑا انبار ہے اور میری جاں؛ نحیف و زار ہے اپنی شوکت کا وہاں اظہار ہے اپنی کمزوری کا یاں اقرار ہے ۷۴۷ اُسی کو پا کے؛ سب کچھ ہم نے پایا ۶۴۸ کھلا اسی میں مُردہ دل کی زندگی ہے یہی کرتا ۶۴۹ اکٹھے ہو رہے ہیں آج احباب ۶۵۱ ۶۵۲ ۶۵۳ ۶۵۸ ۶۵۹ الی جیسی ! ! ہے ہے ہر مشکل راز نهانی کو آساں منائیں تا کہ مل کر روز آمیں و دولت عطا کی ہمیں توفیق دے صدق صفا کی الہی تو ہمارا پاسباں ہو ہمیں الہی! نور تیرا جاگزیں ہو ہر وقت تو راحت رساں ہو زباں میں، سینہ میں؛ دل میں، دہاں میں ابر باراں کی طرح آنکھیں ہیں میری اشک بار ہے گریباں چاک گر میرا؛ تو دامن تار تار اپنے ہم پچشموں کی آنکھوں میں سبگ کیوں ہو گیا دیدہ اغیار میں ٹھہرا ہوں کیوں بے اعتبار ۶۵۵ اک رُخ تاباں کی اُلفت میں پھنسا بیٹھا ہوں دل اپنے دل سے اور جاں سے اس سے میں کرتا ہوں پیار اُس کا اک اک لفظ میرے واسطے ہے جانفزا اُس کے اک اک قول سے گھٹیا ہے دُر شاہوار ایک گن کہنے سے پیدا کر دئیے اس نے تمام یہ زمیں، یہ آسماں؛ یہ دورہ لیل و نہار اُس کی اُلفت نے بنایا ہے مکاں ہر نفس میں ہر دلِ دیندار اس کے رُخ پہ ہوتا ہے بنار اب تو سمجھے کس کے پیچھے ہے مجھے یہ اضطرار یاد میں رکس ماہ رُو کی؛ ہوں میں رہتا اشکبار اُس کی شاں کو عقلِ انسانی سمجھ سکتی نہیں ذرہ ذرہ پر ہے اُس کو مالکانہ اقتدار اس کی قدرت کی کوئی بھی انتہا پاتا نہیں اور پوشیدہ نہیں ہے؛ تم سے میرا حالِ زار اپنی مرضی کا ہے وہ مالک ؛ تو میں محکوم ہوں میری کیا طاقت؛ کہ پاؤں زور سے درگاہ میں بار ایک گالا روئی کا لائی تھی اپنے ساتھ وہ اور یوسف کی خریداری کی تھی اُمیدوار آرزو ہے گر فلاح و کامیابی کی تمھیں اس شہ خوباں پہ کر دو؛ بے تامل جاں نثار اپنی مرضی چھوڑ دو؛ تم اس کی مرضی کیلئے جو ارادہ وہ کرے؛ تم بھی کرو وہ اختیار اُس کے ماموروں کو رکھو ؛ تم دل و جاں سے عزیز اُس کے نبیوں کے رہو؛ تم چاکر و خدمت گزار ۶۶۰ ۶۶۱ ۶۶۲ ۶۶۳ ۶۶۴ ۶۶۵ ۶۶۶