بیت بازی

by Other Authors

Page 468 of 871

بیت بازی — Page 468

468 ۴۴ ۴۵ ۴۶ ۴۷ ۴۹ ۵۱ ۵۲ اس میں میرا جرم کیا؛ جب مجھ کو یہ فرماں ملا کون ہوں؛ تا رڈ کروں حکم شہ ذی الاقتدار اب تو جو فرماں ملا؛ اس کا ادا کرنا ہے کام گرچہ میں ہوں بس ضعیف و ناتوان و دلفگار ایسے کچھ بگڑے؛ کہ اب بنتا نظر آتا نہیں آہ! کیا سمجھے تھے ہم؛ اور کیا ہوا ہے آشکار اے میرے پیارے! فدا ہو تجھ پہ ہر ذرہ مرا پھیر دے میری طرف ؛ اےسا ر ہاں ! جگ کی مہار اب نہیں ہیں ہوش اپنے ان مصائب میں بجا رحم کر بندوں پہ اپنے؛ تا وہ ہوویں رستگار اے خدا! دن تیرے ہو یہ آبپاشی رکس طرح جل گیا ہے باغ تقوی ؛ دیں کی ہے اب اک مزار اک نشاں دکھلا؛ کہ اب دیں ہو گیا ہے بے نشاں اک نظر کر اس طرف؛ تا کچھ نظر آوے بہار ایک بد کردار کی تائید میں اتنے نشاں کیوں دکھاتا ہے وہ کیا ہے بدکنوں کا رشتہ دار آنکھ گر پھوٹی، تو کیا؛ کانوں میں بھی کچھ پڑ گیا کیا خدا دھو کے میں ہے؛ اور تم ہو میرے راز دار ۵۳ اس جہاں کا کیا کوئی داؤر نہیں اور دادگر پھر شریر النفس ظالم کو کہاں جائے فرار ۵۴ آسماں سے ہے چلی توحید خالق کی ہوا دل ہمارے ساتھ ہیں؛ گومنہ کریں بگ بگ ہزار اک زماں کے بعد اب آئی ہے یہ ٹھنڈی ہوا پھر خدا جانے؛ کہ کب آویں یہ دن اور یہ بہار اے مکذب کوئی اس تکذیب کا ہے انتہا کب تلک تو خوئے شیطاں کو کریگا اختیار ان غموں سے دوستو! تم ہوگئی میری کمر میں تو مر جاتا؟ اگر ہوتا نہ فضل رکر دگار اس تپش کو میری وہ جانے؛ کہ رکھتا ہے تپش اس آئم کو میرے وہ سمجھے؟ کہ ہے وہ دلفگار اک شجر ہوں ، جس کو داؤ دی صفت کے پھل لگے میں ہوا داؤد اور جالوت ہے میرا شکار اس قدر عرفاں بڑھا میرا؛ کہ کافر ہو گیا آنکھ میں اس کی؛ کہ ہے وہ دور تر از صحن یار اس رخ روشن سے میری آنکھ بھی روشن ہوئی ہو گئے اسرار اس دلبر کے مجھ پر آشکار اہل تقویٰ تھا کرم دیں بھی؛ تمہاری آنکھ میں جس نے ناحق ظلم کی رہ سے کیا تھا مجھ پہ وار اب کہو! کس کی ہوئی نصرت جناب پاک سے کیوں تمہارا متقی پکڑا گیا ہو کر کے خوار اب ذراسوچو! دیانت سے؛ کہ یہ کیا بات ہے ہاتھ کس کا ہے؛ کہ رڈ کرتا ہے وہ دشمن کا وار اس قدر نصرت کہاں ہوتی ہے اک کذاب کی کیا تمھیں کچھ ڈر نہیں ہے؛ کرتے ہو بڑھ بڑھ کے وار ۵۶ ۵۷ ۵۸ ۵۹ ۶۰ บ ۶۲ ۶۳ ۶۴