بیت بازی — Page 467
467 ۲۲ ۲۳ ۲۵ ۲۶ ۲۷ ۲۸ ۲۹ ۳۱ ۳۲ ۳۳ ۳۴ اے میرے یار یگانہ ! اے مری جاں کی پسند بس ہے تو میرے لئے ، مجھ کو نہیں تجھ بن بکار اس قدر مجھ پر ہوئیں؛ تیری عنایات وکرم جن کا مشکل ہے؛ کہ تاروز قیامت ہو شمار اے فدا ہو تیری رہ میں؟ میرا جسم و جان و دل میں نہیں پاتا؟ کہ تجھ سا کوئی کرتا ہو پیار اسی پر اس کی لعنت کی پڑی مار کوئی ہم کو تو سمجھاوے اگر اس طرف نہ آوے خبر تو اگر ان کو اس رہ سے اے مرے ہوتی خبر ہو جائے اسرار راه زیر و زبر اگر صدق کا کچھ بھی رکھتے اثر ے پیارے! مجھے اس سیل غم سے کر رہا ورنہ ہو جائے گی جاں اس درد سے تجھ پر نثار ارے لوگو! تم کو نہیں کچھ خبر جو کہتا ہوں میں ؛ اس رکھنا نظر اسی پر دوشالے چڑھے اور زر سربر یہی فخر سکھوں کا ہے اے میرے بندہ پرور! کر ان کو نیک اختر رتبہ میں ہوں یہ برتر ؛ اور بخش تاج وافسر اس کے ہیں دو برادر؛ ان کو بھی رکھیو خوشتر تیرا بشیر احمد تیرا شریف اصغر اور ان کے ساتھ دی ہے ایک دختر کچھ گم پانچ کی وہ نیک اختر ہر بال بال ہو جائے سخن تو پھر بھی شکر اگر ور ہے ہے امکاں سے باہر کب ملے بچھڑا ہوا یار ۳۵ اگر کھینچے کوئی کہنے کی تلوار تو اس سے اگر اس میں بنانے کا نہیں زور تو پھر اتنا خدائی کا کیوں شور ہے ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۰ الہی بخش کے کیسے تھے اسی کا کہ آخر ہو گیا ان کا وہ تو تھا معجزانہ اثر که نانک بیچا جس سے وقت خطر قصور اپنا تو اس کا وعدہ رہا سارا طاق پر اوروں کی سعی و جہد یہ بھی کچھ نہیں نظر اتنی شہادتیں ہیں کہ اب کھل گیا اب قید یا صلیب ہے؛ اک بات ہے ضرور آخر کوئی تو بات ہے؛ جس سے ہوا وہ یار بدکار سے تو کوئی بھی کرتا نہیں پیار اے مدعی ! نہیں ہے ترے ساتھ کر دگار یہ کفر تیرے دیں سے ہے بہتر ہزار بار ۴۳ ابتداء سے گوشہ خلوت رہا مجھ کو پسند شہرتوں سے مجھ کو نفرت تھی ہر اک عظمت سے عار ۴۱ ۴۲