بیت بازی

by Other Authors

Page 416 of 871

بیت بازی — Page 416

416 دُرّ ثمين: اگر خالق نہیں روحوں کی وہ ذات تو پھر کا ہے کی ہے قادر وہ ہیہات ایسے بدوں سے اس کے ہوں ایسے معاملات کیا یہ نہیں کرامت وعادت سے بڑھ کے بات آخر خدا نے دی مجھے اس آگ سے نجات دشمن تھے جتنے؛ ان کی طرف کی نہ التفات آیات ہیں بینات که جن سے ملے جاودانی حیات اس بد عمل کی قتل سزا ہے؟ نہ یہ کہ بیت پس کس طرح خدا کو پسند آ گئی یہ ریت اسی پر وہ در عدن اس صاحب آزار کی راحت ہے اسی میں بن جائے ہر اک زخم؛ نمک خوار محبت ارباب محبت پہ یہ کیوں طعنہ ظنی ہے بے خبر لذتِ آزار محبت اسباق محبت کے زمانے کو پڑھائے خود ہو گئے وہ نخل ثمر بار محبت اے شاہ زماں خالق انوار محبت جانِ جہاں رونق گلزار محبت آگئی تھی چند روزه سیر کو پر اسے بھائی نہیں دنیائے زشت کلام طاهر آنکھ اپنی ہی ترے عشق میں پکاتی ہے وہ لہو، جس کا کوئی مول نہیں آج کی رات اُن کو شکوہ ہے؛ کہ ہجر میں کیوں تڑپایا ساری رات جن کی خاطر رات لگا دی ، چین نہ پایا ساری رات اُن سے شکوہ کیسا؛ جن کی یاد نے بیٹھ کے پہلو میں ساری رات آنکھوں میں کائی درد بٹایا ساری رات شکایت کس منہ سے ہو؛ جن کی کومل یاد أن جن کے ہوں احسان بہت دکھتا دل سہلایا ساری نے؛ رات اوروں کے دکھ درد میں تو کیوں ناحق جان گنواتا ہے تجھ کو کیا؟ کوئی بے شک تڑپے ماں کا جایا ساری رات کلام محمود اُسی کے دم سے فقط ہے بقائے موجودات خدا نے رکھی ہے وہ اتصال میں برکت اللہ کی تم پہ رحمت؛ اللہ کی تم پہ برکت اللہ کی مہربانی اللہ کی ہو عنایت Δ ۹ ۱۰ ۱۱ ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ ۱۷