بیت بازی

by Other Authors

Page 379 of 871

بیت بازی — Page 379

379 ۳۱ کہ کر سکتا نہیں اک جاں کو ۳۲ ۳۳ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۰ ام ۴۲ ۴۳ ۴۴ ۴۵ ۴۶ ۴۷ ۴۸ ۴۹ پیدا نہ اک ذرہ ہوا اُس سے ہویدا کیا یہی تقویٰ یہی اسلام تھا جس کے باعث سے تمہارا نام تھا کیسے کافر ہیں؛ مانتے ہی نہیں ہم نے سو سو طرح سے سمجھایا کیا شک ہے ماننے میں تمہیں اس مسیح کے جس کی مماثلت کو خدا نے بتا دیا ودر عدن کام کو جس کے چلا ہے؛ خود وہ تیرے ساتھ ہے اے میرے ناصر! ہے تیرا حافظ و ناصر خدا کون دیتا جان دنیا میں کسی کے واسطے تو نے اس جنس گراں مایہ کو ارزاں کر دیا کر دیئے سینے سپر؛ مرتے گئے، بڑھتے گئے منہ پھرایا کفر کے ہر لشکر جرار کا کیا کرتے جو حاصل یہ وسیلہ بھی نہ ہوتا یہ آپ سے دوباتوں کا حیلہ بھی نہ ہوتا کہہ چکا ہے رحمت عالم کا فرزند جلیل اہم ہوئے دلبر کے اور دلبر ہمارا ہوگیا ' کلام طاهر کیسی کیسی شرم تھی؟ کیا کیا حیا تھی پردہ دار پیار جب معصوم تھا؛ اور وجہ رُسوائی نہ تھا کر ڈالیں مسمار مساجد؛ ٹوٹ لئے کتنے ہی معاہد جن کو پلید کہا کرتے تھے؛ لے بھاگے سب اُن کا جوٹھا کاٹھ کی ہنڈیا کب تک چڑھتی ؛ وہ دن آنا تھا کہ پھٹتی وہ دن آیا اور فریب کا، چوراہے میں بھانڈا پھوٹا جاء الحق وزهــــق البــــــاطــل؛ کہتے ہیں پولیس نے آخر ، کھود پہاڑ نکالا چوہا ان البــــــــاطــــــل كــــــــان زهـــــوقـــــــا کیا حال تمہارا ہوگا؟ جب شداد ملائک آئیں گے سب ٹھاٹھ دھرے رہ جائیں گے، جب لاد چلے گا بنجارا کلید فتح وظفر تھمائی تمہیں خدا نے اب آسماں پر نشانِ فتح و ظفر ہے لکھا گیا تمہارے ہی نام کہنا کرتے تھے آ آ کے بیرے؛ پنکھ پکھیر وشام سویرے پھولوں اور پھلوں سے بوجھل بُستاں کا ایک ایک شجر تھا رکس نے لوٹا ہوا ہوتا مرے چندا کا قرار کروٹیں کس کی جدائی میں بدلتا ہوتا کبھی ہم اُس کو لطیفوں سے ہنساتے تھے بہت کبھی گاتے تھے، تو وہ پیار سے سمجھاتا تھا کبھی اپنا بھی اک شناسا تھا کوئی میرا بھی آسرا سا تھا۔