بیت بازی

by Other Authors

Page 25 of 871

بیت بازی — Page 25

25 ۴۴۵ الٹی پڑ گئیں سب تدبیریں؛ کچھ نہ دغا نے کام کیا دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا پڑ ۴۴۶ آخر شیر خدا نے بھر کر ہر بن باسی کو للکارا کوئی مبارز ہو تو نکلے؛ ہے تو کوئی مُباہل آئے ۴۴۷ آخر طاہر سچا نکلا آخر ملاں نکلا جھوٹا جا الحق وزهق الباطل ان الباطل کان زهـــوقــــــا ۴۴۸ اے آڑے وقتوں کے سہارے سبحان اللہ یہ نظارے اک دشمن کو زندہ کر کے؛ مار دیے ہیں دشمن سارے ۴۴۹ ۴۵۰ ۴۵۱ ۴۵۲ ۴۵۳ ۴۵۴ ۴۵۶ جا الحق وزهق الباطل؛ اپنا منہ ہی کر لیا گندا؛ پاگل نے جب چاند پر تھوکا ان الباطل كان زهـــــوقــــــا آبیٹھ مسافر پاس ذرا؛ مجھے قصہ اہلِ درد سُنا اُن اہلِ وفا کی بات بتا؛ ہیں جن سے خفا سکان وطن اور اُن کی جان کے دشمن ہیں؟ اے دیس سے آنے والے بتا! دیوانے ہیں، جان وطن کس حال میں ہیں یارانِ وطن بھلا؟ اے دیس سے آنے والے بتا! کیا جانیں تن آسان وطن کس حال میں ہیں یاران وطن جو با مجبوروں کا حال آنکھوں میں رقم شکووں کی گتھا ؟ آہوں میں بجھے نالوں کی صدا کیا میرے نام یہی ہیں بتا سند یسے لایا ہے؟ رفته، آزادی اک ہم ہی نہیں چھنتے چھنتے؟ رفته جن کے حق معدوم ہوئے وردی دربان اہل وطن محروم سے؛ ہوئے آزاد کہاں وہ ملک جہاں قابض ہو سیاست پر ملا جو شاہ بنے ، بے تاج بنے ؟ جو حاکم تھے، محکوم ہوئے اور گھر کے مالک ہی بن بیٹھے؛ اے دیس سے آنے والے بتا! وطن کس حال میں ہیں یاران وطن آنکھ ہے میری کہ اشکوں کی ہے اک را بگذار دل ہے یا ہے کوئی مہمان سرائے غم و حزن ۴۵۸ اوٹ سے تیرگی یاس کی جب وقتِ سحر کرن امید کی پھوٹے گی چلا جائے گا اس کے دامن سے ہے وابستہ گل عالم کی نجات بے سہاروں کا ہے اب طلبا و مادی وہی ایک ۴۵۷ ۴۵۹