بیت بازی — Page 354
354 جو کوئی تقویٰ کرے گا؛ پیشوا ہو جائے گا قبلہ رُخ ہوتے ہوئے، قبلہ نُما ہو جائے گا جس کا مسلک؛ زُھد و ذکر و اتقا ہو جائے گا پنجہ شیطاں سے وہ؛ بالکل رہا ہو جائے گا جو کوئی؛ دریائے فکرِ دیں میں ہوگا غوطہ زن میل اُتر جائے گی اس کی؛ دل صفا ہو جائے گا جب کبھی دیکھی ہیں؟ یہ تیری غزالی آنکھیں میں نے دنیا میں ہی؛ فردوس کا نقشہ دیکھا جاہ و عزت تو گئے؟ کہر نہ چھوٹا مسلم ! بھوت تو چھوڑ گیا تجھ کو؛ پہ سایہ نہ گیا جان محمود ترا حسن ہے؛ اک حسن کی کان لاکھ چاہا؟ ترا نقش اُڑایا نہ گیا جس پر مجھے امید تھی؛ شافع میرا ہوگا اس ساعت محسرت میں ہے اُس نے بھی پسارا کر بیٹھا ہے اس کا بھی صفایا جو تو نے دی تھی اس کو طاقت خیر وہ مگر کوئی ٹھکانا بھی پایا جہاں کا چپہ چپہ دیکھ ڈالا جَاءَ بِتِريَاقِ مُزِيلِ سِقَامَنَا غَابَت غَوَايَتُنَا بِكُلِّ سُمُو مِهَا جس پیار کی نگہ سے؛ ہمیں دیکھتا ہے وہ اُس پیار کی نگاہ سے دیکھیں گی مائیں کیا جام شراب و سازِ طَرَب رَقص پُر خروش دنیا میں دیکھتا ہوں میں؟ یہ دائیں بائیں کیا ۳۱ ۳۲ ۳۳ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۰ ۴۱ ۴۲ ۴۳ مم ۴۵ ۴۶ ۴۷ ۴۸ جو بھی دینا ہے؛ آپ ہی دے دے مجھ کو اغیار کا گدا نہ بنا جس کے نیچے ہوں سب جمع عشاق اپنی کا شامیانہ بنا رحمت جو لگے تیرے ہاتھ سے زخم نہیں علاج ہے میرا نہ کچھ خیال کر؛ زخم یونہی لگائے جا جادو بھرا ہوا ہے وہ؛ آنکھوں میں آپ کی اچھے پھلے کو دیکھ کے دیوانہ کردیا جو دل پہ ہجر میں گزری؛ بتاؤں کیا پیارے! عذاب تھا؛ وہ میرے دل کا اضطراب نہ تھا جو پورا کرتے اُسے آپ؟ کیا خرابی تھی؟ مرا خیال؛ کوئی بوالہوس کا خواب نہ تھا جا جا کے اُن کے در پہ تھکے پاؤں جب میرے وہ چال کی؛ کہ اُن کو ہی دل میں بسالیا ۵ جونہی دیکھا اُنھیں؛ چشمہ محبت کا اُبل آیا درخت عشق میں مایوسیوں کے بعد پھل آیا جو کام کا تھا وقت؛ وہ رورو کے گزارا اب رونے کا ہے وقت؛ تو رونا نہیں آتا جس نے فضل ایزدی کی راہیں سب مسدود کیں ہے اسی ملا کو مسلم نے بنایا راہ نما ۴۹ ۵۰ ۵۱ ۵۲