بیت بازی — Page 342
342 ۱۲۵ ۱۲۶ ۱۲۸ ـاهِ جَلالـ آ بھی جا اے رُوح جمال ! آ بھی جا اُمید میں روز ہی ہوتی تھیں پیدا؛ شکل کو لے کر مگر قلب خویں کو صبر آج آیا؛ نہ کل آیا ۱۲۷ آجاتے ہو تم یاد تو لگتا ہوں تڑپنے ورنہ کیسے آرام سے سونا نہیں آتا آج کوئی بھی نظر آتا نہیں سارکن ہمیں ایک مسلم ہے؛ کہ ہے آرام سے بیٹھا ہوا اکا پر جمع ہو کر بھنگیوں کے گھر بھی جائیں گے کہیں گے؛ گر کرو گے کام ان کا، تو بُرا ہوگا ۱۳۰ اگر سودے کی خاطر ہم کبھی بازار جائیں گے ہر اک تاجر کہے گا؛ جا میاں! ورنہ بُرا ہوگا بھی کرو انکار؛ تو حیرت کیا ہے مشہور ہے؟ بے شرم کی ہے دُور بلا اک طرف تقدیر مبرم؛ اک طرف عرض و دُعا فصل کا پکڑا جھکا دے؛ اے مرے مُشکل گشا ! کر اسے سب خوبیاں بھی اب عطا ۱۳۱ ۱۳۲ ۱۳۳ ۱۳۴ ۱۳۵ اب اے خدا! تو نے جو تہ لڑکا دیا اب مکرر جو ہے پھر وقت مسیحا آیا قیصر روم کا کیوں ثانی نہ پیدا ہوتا ابن مریم سے ہے جس طرح یہ عالی رتبہ قیصر ہند بھی ہے؛ قیصر روما الثالث بھی ޏ بڑا تھا ۱۳۶ اس کے نزدیک ہو کے دُور بھی تھا ول اُمید وار چور کلام حضرت خليفة المسيح ۱۳۷ اپنے تئیں، جو آپ ہی مسلم کہا، تو کیا مسلم بنا کے خود کو دکھاتے؛ تو خوب تھا اخلاق میں میں افضل، علم و ہنر میں اعلی احمد کی رہ پہ چل کر، بدرالدجی بنوں گا ۱۳۸